مسلمانوں کو اپنا دین چھوڑنا ہوگا۔!!

11042671_1603811436522149_4844508153046117847_n

یہ قوم بلاشبہ اپنا سب کچھ ہاتھ سے دے چکی، کوئی اور چیز بچی ہی نہیں جو اِس کے ہاتھ سے لے لی جائے۔ دشمن بھی جانتا ہے، اِس کے پاس صرف اِس کا دین اور اِس کا نبی بچ گیا ہے جسے اُس کے خیال میں اِس قوم کے ہاتھ سے اب لازماً لے لیا جانا چاہیے؛ کیونکہ یہ اِس کے پاس ہے تو گویا سب کچھ ہے؛ یہ ایک ایسی ثروت ہے جس سے کام لے کر یہ قوم جب چاہے اپنی ملت کو از سر نو تعمیر کر سکتی ہے.. اور اپنی کھوئی ہوئی ایک ایک چیز اپنے دشمن کے ہاتھ سے واپس لے سکتی ہے.. بلکہ اِس کی مدد سے یہ اپنی اس عمارت کو دنیا میں جس قدر چاہے اونچا لے جا سکتی ہے اور جس قدر چاہے جہانِ انسانی کے اندر پیش قدمی کر سکتی ہے۔
چنانچہ اب وہ اِس امت کے ہاتھ سے اِس کا دین چھیننے کا فیصلہ کر چکا ہے! اِس معنیٰ میں نہیں کہ وہ ہمارے یہاں سے ہمارے دین اور ہماری شریعت کی حکمرانی ختم کروا دے؛ کیونکہ یہ کام تو وہ ایک صدی پہلے کامیابی کے ساتھ انجام دے چکا ہے۔ بلکہ اِس معنیٰ میں کہ یہ امت اعتقاداً ہی اب اللہ، اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول سے اپنا ناطہ توڑ لے اور اپنے ایمان کے اِن نازک ترین اور بنیادی ترین مقامات پر بھی ”غیرت“ اور ”حمیت“ ایسے الفاظ کو اپنی لغت سے ہمیشہ کیلئے خارج کرا دے۔ اِن کی کتاب اور ان کے نبی کو برسرعام گالیاں پڑیں اور ان کی شریعت میں وارد ہونے والی حدود اور شعائر کا دنیا کی بڑی بڑی سکرینوں اور فل اسکیپ کے صفحات پر مذاق اڑا لیا جائے تو بھی عالمی دجالی شریعت پر اپنے ایک غیر متزلزل ایمان کا ثبوت دیتے ہوئے اور اِس دجالی شریعت سے وجود میں آنے والے ”بین الملل رشتوں“ کی عظمت و تقدس کا پاس رکھتے ہوئے ان پر لازم ہو گا کہ تب بھی یہ ”مسکراہٹوں کے تبادلہ“ کی ہی ایک ایسی نہ ختم ہونے والی استعداد سامنے لائیں جو کسی بھی صورت میں اور کسی بھی موقعہ پر اِن کی باچھوں کا ساتھ نہ چھوڑتی ہو۔
جس طرح قرآن نے کسی وقت یہ اعلان کیا تھا کہ اللہ کے نزدیک دین ایک ہے اور وہ ہے اسلام۔ البتہ ساتھ فرمایا تھا کہ اس کے قبول کرنے پر ہرگز کوئی دھونس زبردستی نہیں ہے،کیونکہ فیصلے خدا کے ہاں قیامت کو جا کر ہونے ہیں۔ اسی طرح آج کے اِس عالمی دجالی چارٹر نے صاف صاف اور واشگاف یہ اعلان کر دیا ہے کہ ”دین“ اس کے نزدیک ایک ہے اور وہ ہے سیکولرزم، البتہ اِس ”دین“ کے اندر رہتے ہوئے ”مذہب“ آپ جونسا مرضی اختیار کریں۔ ہاں البتہ ”دین“ جو ایک ہے، اور سیکولرزم ہے، اس کو قبول کرنے پر ہر ہر قسم کا اکراہ اور ہر ہر انداز کی زبردستی لازماً روا رکھی جائے گی۔ نیز یہ سب فیصلے آج ہی اور اِسی زمین پر ہوں گے۔ اور کوئی رحم اور ترس کھانے کی اِس بار گنجائش نہیں۔
حق یہ ہے کہ یہ سارا التباس جو یہ سیکولر زبانیں اِس وقت پیدا کر کے دے رہی ہیں؛ اور جس کے دم سے ’مذہب کا احترام‘ ایسے چند الفاظ بول کر یہ ہم کو ایک بہت بڑا چقمہ دے دینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں اور اِس مکاری سے کام لے کر اِن گلیوں اور بازاروں کے اندر اور یہاں کی لاکھوں کروڑوں سکرینوں پہ سامنے آکر ”دینِ محمد“ کے ساتھ کفر کی کھلم کھلا دعوت دے کر بھی یہ محمد ﷺ پر ایمان رکھنے والے ایک معاشرے میں اپنا سر سلامت لئے پھرتی ہیں….
یہ سارا التباس اور یہ ساری مکاری اِسی ایک حقیقت کے دم سے ہے کہ ہمارے بے علم عوام ابھی ”دین“ اور ”الٰہ“ کے اُس جامع مفہوم سے ناواقف ہیں جو چودہ سو سال سے امت کے اہل علم میں متفق علیہ چلا آیا ہے۔ ہمارے یہ عوام کبھی واقف ہوں کہ فقہائے اسلام کے یہاں ”دین“ کا کیا دائرۂ کار رہا ہے، یہاں تک کہ کسی بھی فقہ کی (جی ہاں کسی ایک نہیں بلکہ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، ظاہری، جس بھی فقہ کی) کتاب کھول لیں اور بیشک پوری کتاب نہ پڑھیں، محض اسکی فہرست پر ہی ایک سرسری نگاہ ڈال لیں، اِسی طرح صحاح ستہ میں سے حدیث کی کوئی ایک ہی کتاب اٹھا لیں اور زیادہ نہیں محض اسکی فہرست ہی کو ایک نظر دیکھ لیں، تو انکو اندازہ ہو کہ ”دین“ کا دائرہ کہاں تک ہے(6) اور کیا کیا چیز ”دین“ کے اندر شامل ہے، جسکے ذریعے انکو ”الٰہ“ کی عبادت کرنی ہے۔
ایک ایسا دین جو چودہ صدیوں تک معاشروں کو اپنی جاگیر منوا کر رہا ہو، اور یہاں کا بے عمل سے بے عمل اور گناہگار سے گناہگار شخص بھی اُس کی اِس حیثیت کو تسلیم کرتا رہا ہو… ایک ایسا دین جو معاشروں پر مطلق حکمرانی کا دعویٰ کر کے رہا ہو اور یہاں کے کسی فاسق فاجر شخص نے بھی اُس کے اِس دعویٰ کو جھٹلانا اپنے حق میں کفر اور ابدی جہنم کا ہی موجب جانا ہو… ایک ایسا دین اِس نئے عالمی دجالی سیٹ اَپ میں کیونکر اپنی اصل حالت پر چھوڑا جا سکتا ہے؟ یوں بھی ”دین“ تو ایک ہی ہو سکتا ہے۔ ”مذاہب“ تو کسی ملک میں جتنے مرضی ہوں، اور اِس کی تو اسلام بھی اجازت دیتا ہے بلکہ تاریخ شاہد ہے، ’اقلیتوں‘ کو ان کے اپنے اپنے ”مذہب“ پر چلنے کا حق دینے میں اسلام سے بڑھ کر کوئی دین اور کوئی تہذیب ہے ہی نہیں حتیٰ کہ ’جمہوریت‘ اور ’آزادی‘ کا سمبل مانا جانے والا آج کا ماڈرن فرانس بھی نہیں، البتہ ”دین“ تو ایک ملک میں ایک سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ اسلام کی طویل صدیاں یہاں کا ”دین“ اسلام تھا، خواہ ’مذہب‘ کسی کا جو بھی ہو۔ اب قریب قریب دنیا بھر کا ”دین“ سیکولرزم ہے، خواہ ’مذہب‘ کسی کا جو بھی ہو۔ کوئی ملک ایک سے زیادہ ”دین“ کا متحمل واقعتا نہیں ہو سکتا؛ ایک نیام میں دو تلواریں کبھی نہیں سمائیں(7)۔ Law of the land تو ایک ہی ہو سکتا ہے، یا خدا کا فرمایا ہوا اور یا پھر انسان کا بنایا ہوا۔ ”دین“ کسی جگہ پر دو پائے ہی نہیں جا سکتے۔ جب ایسا ہے تو پھر شیاطین مغرب کے اِس مجوزہ جہان میں ”دینِ اسلام“ کی گنجائش ہی کہاں ہے؟ اِس کو تو آہنی ہاتھ سے ختم کیا جانا ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھ میں کوئی چیز چھوڑی جا سکتی ہے تو وہ ’مذہب‘ ہے!
چنانچہ اُس اسلام کے ساتھ جو اپنا تعارف ”دین“ کے طور پر کرواتا ہے آج کھلی جنگ ہے۔ اُس کیلئے اِس پوری زمین پر کوئی جگہ نہیں۔ عملاً تو بڑی دیر سے نہیں، مگر ذہنوں کے اندر بھی اس کیلئے اب کوئی جگہ نہیں۔آخر یہ اسلام ”دماغوں“ کے اندر بھی کیوں پایا جاتا ہے؟؟؟! جب تک یہ ”ذہنوں“ سے ہی کھرچ نہیں دیا جاتا اُس وقت تک دینِ اینگلو سیکسن کی بقاءو استحکام کی بابت کیونکر مطمئن ہوا جا سکتا ہے؟! پس ایسے اسلام کو تو دماغوں کے اندر بھی رہنے نہیں دیا جا سکتا؛ اس کا تو تصور ہی مٹا ڈالنا ضروری ہے….!!!
اِس کی ایک ہی صورت ہے: اسلام کو ’مذہبی معاملات‘ میں قید کرو اور پھر ایسے اسلام پر اپنا ایک پکا ٹھکا یقین ظاہر کر کے اپنے حسن نیت کا ثبوت پیش کرو۔ یعنی ”دین“ کی حیثیت میں اِس کے ساتھ کفر کرو اور ’مذہب‘ کی حیثیت میں اِس کا بھرپور احترام کرو۔ اتنا ہی نہیں، ساتھ میں اُن لوگوں کی عقل اور سمجھ پر اظہارِ افسوس کرو جو تمہاری نیت پر حملہ آور ہوتے اور مسلم عوام کو یہ تاثر دے کر تمہارے خلاف بھڑکاتے ہیں کہ یہ لوگ ’مذہب‘ کے منکر ہیں!
ان سے کہو: دراصل تم لوگ ”سیکولرزم“ کو سمجھے نہیں، ہم کوئی ’مذہب‘ کا انکار تھوڑی کرتے ہیں؛ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ ریاست کے معاملات، وہاں پائے جانے والے انسانی فریقوں کے باہمی منشا سے، اور اُن کے مابین پائے جانے والے ”کامن گرؤنڈز“ اور ”کامن ٹرمز“ پر، چلائے جائیں گے جوکہ ’مذہب‘ کے ماسوا ہی ہو سکتے ہیں؛ کیونکہ یہاں آپ اکیلے نہیں بلکہ غیر مسلم اقلیتیں بھی ہیں (گویا رسول اللہ کے قائم کردہ معاشرہ میں ’اقلیتیں‘ نہیں تھیں، یا پھر ’اقلیتیں‘ ختم کر کے رکھ دی گئی تھیں، یا پھر ’اقلیتوں‘ کے احترام میں ”سیکولرزم“ کو ہی law of the land ٹھہرا دیا گیا تھا اور قرآن کی اُن تمام نصوص کو جو معاشرے کیلئے فوجداری و دیوانی احکام بیان کرنے کو اترا کرتی تھیں محض ”تلاوت“ کیلئے مختص ٹھہرا دیا گیا تھا!)؛ اور یہ کہ سماجی علوم اور سوشل سسٹمز میں ’مذہب‘ کو گھسیٹ لانا کوئی درست بات نہیں، رہ گیا ’مذہب‘ اپنے خاص دائرۂ کار کے اندر (جو کہ سیکولرزم کی قاموس میں ’مسجد‘، ’مندر‘ اور ’گوردوارہ‘ وغیرہ ہو سکتا ہے)، تو اس پر تو ہم پورا ایمان رکھتے ہیں اور ہر شخص کے اِس حق کا نہایت کھلے دل سے احترام کرتے ہیں کہ آج کی کسی بھی ’جدید ریاست‘ میں رہتے ہوئے وہ اپنی پسند کے مذہب پر چلنے کے اِس ’یونیورسل رائٹ‘ کو پوری آزادی کے ساتھ ’انجوائے‘ کرے! ہم تو صاف یہ کہتے ہیں کہ ’مذہب‘ کو اس کے دائرۂ کار کے اندر پورا پورا احترام دیا جائے، اب ہماری بابت ہی یہ نشر کرتے پھرنا کہ ہم ’مذہب‘ کے منکر ہیں کتنا بڑا جھوٹ ہے….!
(جاری ہے)

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *