آپ مسلمان پہلے ہیں یا انسان۔۔؟

11058673_1606933469543279_2404545750932388202_n

ھیومنسٹ سیکولر جب آپ سے کہتے ھیں کہ “اصل میں تو آپ انسان ہیں نہ کہ مسلمان، ھندو یا عیسائی کہ ان شناختوں کا اقرار تو آپ بعد میں خود سے کرتے ھیں؛ یعنی پھلے آپ انسان ھوتے ھیں اور پھر مسلمان وغیرہ”،
تو بظاھر بھلی معلوم ہونے والی اس بات کے پیچھے یہ ھیومنسٹ ھمارے عقیدے کے ساتھ کیسا کھلواڑ کرجاتے ہیں اس پر کم ہی غور کیا جاتا ھے۔ بہت سے مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہاں یہ تو گویا خاصی معقول بات ھے۔
ذرا غور تو کیجئے کہ مسلمان، عیسائی یا ھندو ھونا دراصل کس بات کا اقرار کرنا ھے؟
اس بات کا کہ “اصلا میں خدا کی مخلوق و بندہ ہوں”۔
تو جب یہ ھیومنسٹ کہتے ہیں کہ نہیں تم اصل میں مسلمان وغیرہ نہیں تو اسکا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اصل میں تم خدا کے بندے (being with God) نہیں۔
آخر آپ سے اس بات کا انکار کرا کے وہ آپ کو اسکے سواء اور کس عقیدے پر لے آتا ہے کہ اصلا تم قائم بالذات (being without God) ہستی ھو؟
تو سمجھ آئی کہ “اصلا انسان ہونے” کے اقرار کے پیچھے کیا واردات کھیلتے ہیں یہ لوگ؟
خوب سمجھ لیں، “اصلا انسان یا اصلا مسلمان” کا سوال دراصل خدا کا بندہ ھونے یا قائم بالذات ہونے کے اقرار سے متعلق ہوتا ہے۔
زاہد مغل

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *