شرعی احکامات کی درست عقلی توجیہہ

11026361_1602323550004271_5830205458365070136_n

اسلام میں شرعی احکامات کے کئی مقاصد ہیں جن کا’ مکمل’ احاطہ کرنا عقلِ انسانی کے دائرہ سے باہر ہے۔اسلام صرف ایک عقیدہ و نظریہ ہی نہیں ہے جس سے صرف انفرادی عمل یا اصلاح مقصود ہو۔اسلام کا مقصدصرف ایک انسان یا کئی انسانوں کو مسلمان بنانا ہی نہیں ہے۔ بلکہ ایک امّت بنانا بھی اسلام کا ایک اہم مشن ہے۔جن معنوں ہم مسلمانوں کو ایک امّت قرار دے رہے ہیں وہ موجودہ دور کی کسی بھی اصطلاح پر بھاری ہے۔ اسلام ایک ایسی امت بنانا چاہتا ہے بلکہ بنا چکا ہے جس کا ہر اعتبارسے اپنا ایک نظریہ ہو، جو ایک قوم تو ہو لیکن اپنی مقامی تاریخ اور جغرافیائی قید سے آزاد ہو، جس کے اپنے مربوط اور منضبط اصول اور اقدار امت کے ہر اجتماعی اور انفرادی پہلوؤں کا احاطہ کئے ہوئے ہوں۔اس لئے حق یہ ہے کہ اسلام بحیثیت امت کے لئے تمدن (civilization) کا لفظ بھی ہلکا پڑجاتا ہے۔ یہ بھی ایک بڑی حقیقت کہ اسلام کا ایک تمدن کے طور پر بعثت محمدی ﷺ سے لے کر آج تک ایک تسلسل کے ساتھ ہونا کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اگرچہ اسلام جزوی طور پر مقامی روایات پر عمل کرنے کے معاملے میں کافی لچک رکھتا ہے لیکن یہ ایک قطعی الگ بحث ہے اور اس سے اسلام کے ایک مربوط،منظم، مسلسل ، دائمی اور عالمی تمدن ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔
یہ تفصیل اسلئے بیان کی گئی ہے تا کہ شرعی احکامات کی عقلی توجیہ کرتے ہوئے یہ بات بھی پیش نظر ہو کہ اسلام کو ایک امت بمعنی ایک دائمی تمدن کے بنانے میں انکا کیا رول رہا ہے۔
اگرچہ شرعی احکامات کی حکمت معلوم کرنا سماجی سائنس کے ذیل میں ہی آتا ہے لیکن اس میں ہمیں دوسرے سماجی سائنس کے مقابلہ میں ایک سہولت حاصل ہے۔ کوئی ڈیڑھ ہزار سال سے جغرافیائی حدود سے آزاد اسلامی تمدن کا وجود تاریخ کی ایک روشن ترین حقیقت ہے ۔ اس تمدن کا وجود کوئی مفروضہ، منصوبہ یا نظریہ نہیں ہے ، بلکہ حال کے ساتھ ساتھ یہ اپنی ایک تاریخ بھی رکھتی ہے۔ یہ ڈیڑھ ہزار سال کی تاریخ ہمیں شریعت کی حکمتوں کو سمجھنے میں بہت کچھ معاون ہوسکتی ہے۔ اس لئے اس امت بمعنی تمدن کی تشکیل اور بنیادیں استور کرنے میں شرعی احکامات کا کیا رول رہا ہے اب اس کی تحقیق دوسرے سماجی علوم کے مقابلے میں قدرے آسان ہے۔ ہا ں یہ ضرور ہے کہ ان احکامات کے اثرات کا ہم اتنا ہی ادراک کرسکتے ہیں جتنی کہ ہمارے ذہن کی پرواز ہے۔
معاشرے میں جو بھی عبادت عملاً نافذ ہوگی اس کا طویل المیعاد اثر(Long term implication) اس تمدن پر ہوگا جس کا ادراک صرف اس شرعی مسئلے کے سطحی سائنسی مطالعے سے نہیں ہوسکتا۔جب ایک حکم نافذ ہوتا ہے اس کی کئی سماجی، نفسیاتی اور روحانی جہتیں ہوتی ہیں جن کا مکمل ادراک انسان کے لئے تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اس لئے اسلام کے ہر ہر احکام کی معنویت کو پوری طرح سمجھنے کے لئے اس کے اثرات کو بہت گہرائیوں سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔!!
کیا جب کوئی حکم دیا جاتا ہے تو بات صرف اس حکم پر عمل کرنے تک رہتی ہے؟ اس خدائی حکم پر عمل کرنے کی عملی تدبیر بہرحال اس عمل کرنے والے خاکی انسان کو ہی طے کرنا پڑتی ہے۔ پھر جب معاشرے کا ایک بڑا عنصر اس پر عمل کرتا ہے تو یہ معاشرتی قدروں کی شکل ڈھال لیتا ہے۔ پھر اس پر عمل کرنے کے انسانی ذہن اور معاشرے میں کثیر الجہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یہ عمل جب معاشرے میں وجود پاتا ہے تو آپ سے آپ اپنے کچھ لوازمات بھی پیدا کرتا ہے جو کہ تمدن کے ہر ہر پہلو پر کسی نہ کسی طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اپنی اس بات کو ہم کچھ مثالوں سے سمجھاتے ہیں۔ وضو کی حکمت معلوم کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ یہ پتہ کریں کہ روزانہ پانچ بار جسم کچھ اعضاءپر پانی بہانے سے انسانی صحت اور نشونما پر کیا اثر پڑ تا ہے۔ اب ظاہر بات ہے کہ ایسا کوئی فائدہ اگر ثابت بھی کیا جائے تو وہ کتنا محدود ہوتا ہے اور اس پر کیا اعتراضات ہوسکتے ہیں۔ اب اسی وضو کے حکم کوذرا دوسرے زاوئیے سے دیکھا جائے:
ایک شخص اپنے رب کے حضور حاضر ہو رہا ہے۔وہ بے دھڑک مسجد میں جاکر نماز کے لئے کھڑا نہیں ہو رہا ہے۔ بلکہ پہلے تمام حاجتوں سے فارغ ہو کرذہنی یک سوئی حاصل کرتاہے۔ اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو نے میں اس کو روزانہ کئی باراپنے آپ کو انتہائی احتیاط سے نجاست سے بچانے کی ضرورت پڑتی ہے جس کو وہ صرف اللہ کے لئے کرتا ہے لطف کی بات یہ ہے کہ مومن کا حالت طہارت میں ہونے کا راز وہ اور اُس کا خدا جانتا ہے جو بندگی کی اعلیٰ ترین کیفیت ہے۔وضو کا عمل بھی صرف اس بات سے عبارت نہیں ہے کہ بدن کو گیلا کرنا ہے، نماز کی ادائیگی کے لئے مومن اپنے آپ کو پاک کرنے کی نیت سے کچھ اعضاءپر مخصوص انداز میں پانی بہاتا ہے۔ اس پانی کے بہانے میں اس بات کا خاص خیال کرتا ہے کہ کوئی بھی حصہ جس کو ترکرنا ضروری ہے وہ خشک نہ رہنے پائے۔ اس معاملے میں اس کو چوری کرنے کے کئی مواقع ملتے ہیں جس کو صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے نظر انداز کر دیتا ہے۔پھر جب وضوءاور نماز کا درمیانی وقفہ ہوتا ہے تو اس میں ایسے کسی بھی عمل سے اپنے کوآپ کو بچاتا ہے جس میں وضو ٹوٹ جائے۔ اس وضو کے ناقص ہونے اور نہ ہونے میں بھی صرف اللہ رب العزت اس کا رازدار ہو تا ہے۔یہ وضو کا عمل ہی ہے جس سے مسلمانوں میں پاکی اور صفائی کی نہایت اعلیٰ قدریں کتنی گہرائی سے پائی جاتی ہیں۔ مسلمان اگر نماز کا پابند ہو تو وہ اپنے آپ کو نجاستوں اور آلائشوں سے پاک رکھنے کا کتنا اہتمام کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں آپ مغربی تہذیب کی طرف نظر کریں ،یہاں پر ناپاکی کا مطلب ہی ایسا کوئی داغ ہے جو ’نظر‘ آتا ہو یا ایسی بدبو ہے جو ’محسوس‘ کی جاتی ہو۔ باقی کوئی بھی چیز جو اندر ہی اندر ہووہ ’پاکی‘ ہی تصور کی جاتی ہے۔ان کے یہاں کسی انسان کا جھوٹا تو ناپاک سمجھا جاتا ہے لیکن انسان کی غلاظت بلکہ کتے کی غلاظت بھی پاک ہی ہے جب تک کہ وہ کسی ’معیوب‘ صورت میں سامنے نہ آئے!
اس مستقل عمل سے انسان کے اندر پاکی کا اورناپاکی کا ایک تصور منقش ہو جاتا ہے۔ یہ ناپاکی اور پاکی کا تصور چونکہ ایک مقدس اور مقتدر ہستی کی عبادت سے جڑا ہوا ہے اس لئے انسان کی فطرت کے اندر جو تقدس کے معنی ودیعت ہیں ان کو جلا بخشتا ہے۔ اور جب نسلوں کی نسلیں اس عمل سے گذرتی ہیں تو اندازہ لگائیے کہ تقدس کا یہ احساس اس امّت کے اندر کس قدر مستحکم ہوجاتا ہے۔یہ عمل انسان کے اندر دین اور دین کے شعائر کا انتہائی احترام پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ دین کی کسی بھی علامت کو مذاق بنانا کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ اور چونکہ یہ عمل نماز پڑھنے کے لئے خصوصی طور پر کیا جاتا ہے اس لئے نماز اور نماز کے متعلقات کا بھی انتہائی احترام پیدا کردیتا ہے۔

پنچ وقتہ نماز وں کے بارے میں غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ نماز کے اوقات کے ذریعے سے کس طرح سے مسلمانوں کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو مربوط اور منضبط کیا گیا ہے۔رمضان کے روزوں کے بارے میں غور کریں تو پتہ چلے گا کہ ہر سال مخصوص انداز میں ایک بے ساختہ اور غیر محسوس طریقے سے جس طرح ایک دینی ماحول قائم کیا جاتا ہے اسی سے دراصل یہ امت آج تک امت چلی آرہی ہے۔
اندازہ لگائیے کہ اگر ہر سال رمضان میں روزوں اور تراویح کی باد بہاری سے ہمارے ایمان کو تازگی بخشی نہ جاتی تو یہ روایتی مسلمان زوال کے اس دور میں کیا اپنی شناخت باقی رکھ سکتا تھا؟اگر ہر سال امت کے انفرادی اور اجتماعی انداز میں ایمان اور امت کے ساتھ وابستگی کے احساس کا احیاءنہ ہوتا تو پھر پتہ نہیں یہ امّت کیسے ہوتی۔یہ ایک ایسی عبادت ہے جونہ صرف اپنا ایک خاص بیرونی اثررکھتی ہے بلکہ ایک مؤمن کے اندر بھی اپنا ایک طاقتور وجود رکھتی ہے۔ اپنے عمل کرنے والے کو ایک ایسی آزمائش سے گذارتی ہے جس میں ۹۹ فیصد لوگ کامیاب بھی ہوتے ہیں اور اسکے روحانی اثرات سے فیضیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ اگر یہی روزے پورے سال میں پھیلے ہوتے تو کیا یہ نتیجہ پیدا کرسکتے تھے؟ حقیقت یہ ہے مسلمانوں میں جب سے نماز کے معاملے میں غفلت آئی ہے یہ رمضان کے روزے ہی ہیں جس نے اس امّت کو ایک جٹ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ایک باطل نظام کے اندر رہتے ہوئے نماز کا اہتمام خصوصاً انتہائی مشکل کا م ہے اس لئے امت کی پہلے سرحد نماز پر تو بہت رخنے پڑگئے لیکن یہ رمضان کے روزے ہی ہیں جس نے امت کی حفاظت میں دوسری سرحد کا کردار اداکیا۔
حج کے بارے میں غور کریں کہ ایک عالمی امت جو کہ جغرافیائی اعتبار سے پھیلی ہوئی اگر اسکا عالمی مرکز نہ ہوتااور مسلمانوں میں اس مرکز کی طرف رجوع کرنے کا اتنا شدید داعیہ نہ ہوتا تو پھر یہ امّت کس طرح پراگندگی کا شکار ہوجاتی۔ڈیڑھ ہزار سال سے رمضان اور حج کے اہتمام کی وجہ سے اسلامی تمدن پر کیا کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ ہر سال رمضان کا آنا اور جانا ،روزے اور اسکا اہتمام اور اس کے لوازمات کے سماجی اثرات اور اسکو عالم اسلام میں بیک وقت منانا اپنے اعتبار سے کئی اثرات و جہتیں رکھتا ہے۔ آج اگر دنیاکے باطل نظام “عالم اسلام” کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں تو بھی یہ رمضان اور حج کی ہی وجہ سے ۔
یہ جتنی بھی عبادات ہیں وہ جب معاشرے میں پائی جائیں تو وہ اپنے حد تک نہیں رہتیں بلکہ اپنے کئی لوازمات خود بخود پیدا کرتی چلی جاتی ہیں جس کی وجہ سے دین ایک محسوس اور زوردار انداز میں معاشرے میں اپنا وجود منواتا ہے۔ اور اسی وجہ سے آج یہ امّت ناقابل تردید انداز میں ایک عالمی امّت کے طور پر اپنا وجود رکھتی ہے۔
شرعی احکامات کی حکمتوں کو معلوم کرنے کا رواج آج ہی شروع نہیں ہوا ہے بلکہ بہت پہلے سے علماءاسلام اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے کہ اسلام اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک شعور ی ایمان کی دعوت دیتا ہے۔علمائے متاخرین میں اس حوالے سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒنے حجۃ اللہ البالغہ میں نہایت قابل قدر کام کیا ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہو تا ہے جب ہر حکم کی توجیہ natural scienceکے ذریعے سے معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔جس کے نتیجے میں عجیب قسم کی توجیہات سامنے آتی ہیں جس کا نقص بعد میں ظاہر ہو تو پھر غیر ضروری مایوسی بھی ہوسکتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے ہم اس بات کا ادراک کر لیں کہ جدید ذہن کو ہر وہ چیز دینا ضروری نہیں ہے جس کا وہ مطالبہ کر رہا ہے۔ بلکہ ہمیں پہلے اس ذہن کو سمجھ کر اس کو صحیح رخ پر غور و فکر کرنے پر آمادہ کرنا ہوگا۔
تحریر ابو زید

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *