مسلمانوں کو اپنا دین چھوڑنا ہوگا۔(2)

11013121_1604089073161052_6219268152911769705_n

چونکہ مسلمان چودہ سو سال تک اسلام کو ”دین“ ہی مانتے چلے آئے ہیں اور ان کے سب علمی ذخیرے، ان کے سب فقہاء، ان کی سب فقہیں اور ان کے سب علمی مراجع جگہ جگہ اِس ’گمراہی‘ میں الجھے رہے ہیں جو اسلام کا تعارف معاشرے کے جملہ امور پر حاکم بن کر رہنے والے ایک ”دین“ کے طور پر کرواتی ہے، لہٰذا جب تک مسلمان اپنی اِن فقہوں، اپنے اِن علمی ذخیروں اور اپنے اِن فنی و تکنیکی مراجع سے ہی برگشتہ نہیں کرا لئے جاتے تب تک چاہے یہ اسلام کو نظری طور پر ”مذہب“ کے اندر محصور کر دینا قبول کر چکے ہوں اور بے شک یہ اکیسویں صدی کے اِس عالمی دین کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال چکے ہوں، پھر بھی پیر پیر پر یہ اُن ”گمراہیوں“ اور اُن ”مغالطوں“ کا شکار ہوں گے جو صدیوں تک اسلام کو ”دین“ کے طور پر لینے کے ہی عادی چلے آئے ہیں اور اس کے علاوہ اسلام کی کسی تعریف سے واقف ہی نہیں رہے، لہٰذا جب تک اِن کو اُس پورے فقہی و تاریخی تسلسل سے ہی کاٹ کر نہیں رکھ دیا جاتا اور اس سارے فقہی ورثے پر ہی ان کے بچے بچے کی زبان پر ایک سوالیہ نشان نہیں کھڑا کروا دیا جاتا تب تک وہ اسلام کی اِس جدید ’مذہبی تعبیر‘پر بھی یکسوئی نہ پا سکیں گے؛ اور نہ چاہتے ہوئے بھی ’اکیسویں صدی کی چیزوں‘ کو ’پرانی چیزوں‘ کے ساتھ خلط کرتے رہیں گے ….
لہٰذا یوں تو کسی قوم کے ’مذہبی امور‘ میں مداخلت صحیح نہیں اور خود ”سیکولرزم“ کے اصول بھی اس کے متحمل نہیں، لیکن اِس خاص خدشے کے پیش نظر جوکہ اوپر ذکر ہوا، اور حفظ ما تقدم (pre-emptive measure) کے طور پر، اور عالم اسلام میں اِس نئے دین __ ”سیکولرزم“ __ کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے، یہ ضروری ہے کہ فقہ کے یہ سب مراجع مسلمانوں کے ہاتھ سے لے کر رکھوا دیے جائیں۔ وحی کے فہم اور استنباط کے سلسلہ میں وہ سب مسلمات اور وہ سب طے شدہ باتیں جو چودہ سو سال سے اِس امت کے تمام علمی حلقوں کے یہاں محکّم مانی گئی ہیں، ان سے ترک کروا دی جائیں۔ یہاں تک کہ ”تواتر“ اور ”اجماع“ ایسے الفاظ اور اصطلاحات بھی ان کی زبانوں سے کھرچ کھرچ کر اتار دیے جائیں۔ رہ گئی ”سنت“، تو اس کی تعریف ہی پر اس قدر دھول اٹھا دی جائے کہ یہاں ہر چوراہے پر یہ دنگل ہو رہا ہو کہ وہ سنت جو اس امت کا نبی اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے اور جس کو اِن کا نبی ”ڈاڑھوں سے پکڑ کر رکھنے“ کی نہایت زوردار تاکید کر گیا ہے وہ ”سنت“ خیر سے ہوتی کیا ہے!؟ اور امت میں سے آج تک آیا وہ کسی کو سمجھ بھی آئی ہے یا اِس امت کو لاحق اتنا بڑا ابہام دور کرنے کیلئے ”سنت“ کی اسٹینڈرڈ تعریف اکیسویں صدی کے کچھ نابغاؤں کو ہی جاری کر کے دینا ہو گی؟ اور حسب ضرورت اس میں ”ترمیمات“ بھی کرتے رہنا ہو گا؟! سنت سے یوں فارغ ہوئے۔ رہ جاتی ہے کتاب اللہ، تو وہ جانتے ہیں کہ کتاب اللہ کو سنت اور صحابہؓ کی راہ سے ہٹ کر سمجھنے والا خود ہی کہیں ”خوارج“ کے گڑھے میں جا کر گرے گا، تو کہیں ”معتزلہ“ تو کہیں ”قدریہ“ تو کہیں ”جبریہ“ تو کہیں ”نیچرسٹ“ تو کہیں ”لبرل“ تو کہیں ”سیکولر“۔ ان گھاگ مستشرقین سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ کتاب اللہ کو سنت اور صحابہؓ کی راہ سے ہٹ کر سمجھنے سمجھانے کی ریت چلا دی جائے تو یہاں کی ہر ’ذاتی لائبریری‘ میں ایک ’نئی تحقیق‘ ہو رہی ہو گی اور ہر گلی کے کونے میں کئی کئی ’مکتب فکر‘ پائے جائیں گے، بلکہ یہاں کا ہر شخص ایک ’اسکول آف تھاٹ‘ ہو گا!
چونکہ اسلام کی ایک تاریخی وفقہی تصویر متفقہ طور پر مسلمانوں کے ہاں ایسی ہی ایک کامل و شامل تصویر ہے.. لہٰذا مسلمان بچوں میں بے راہ روی عام کر دینے پر استعمار کی جو محنت ہوئی ہے اس کے اپنے فائدے ضرور ہیں، مگر اسلام کی وہ علمی تصویر پھر بھی اپنی جگہ برقرار ہے جو ان کو ”واپس“ آنے کیلئے مسلسل اپنی طرف بلاتی ہے۔ کم از کم بھی یہ کہ اسلام کی وہ علمی تصویر آج بھی مسلمانوں کو ان کے انحرافات کی پیمائش میں مدد دیتی ہے۔ اِس گھر کا بھولا ہوا کوئی شخص واپس آنے کا ارادہ کر لے، تو اس کا راستہ پھر بھی کھلا ہے۔ چنانچہ جب بھی اِن مسلمانوں کے بچے اسلام کی طرف واپس آتے ہیں، اور یہ ایک ایسا ’خطرناک‘ عمل ہے جو نہ صرف تیزی کے ساتھ شروع ہو چکا ہے بلکہ ”ایلیٹ“ کے بچوں میں بھی رواج پکڑ گیا ہے… جب بھی مسلمانوں کے بچے سنجیدگی کے ساتھ اسلام کی طرف لوٹتے ہیں تو پھر وہ وہی اسلام ہوتا ہے جو کم از کم علمی حد تک وہی چودہ سو سال پرانا ایک تسلسل ہے!
لہٰذا استعمار کے زیر اشارہ کام کرنے والے ٹی وی اور سینما اور تھیٹر اور ریڈیو اور اخبارات کی سب کوششیں مسلمانوں میں عملی بے راہ روی لے آنے پر ہی مرکوز کروا رکھی جانا اس مسئلے کا کوئی بہت زبردست حل نہیں ہے۔ اصل کام اب یہ ہے کہ اسلام کی اُس علمی تصویر ہی کو بدل کر رکھ دیا جائے۔ اُن کی نظر میں، اس گھر سے اِس کے بچوں کا ایک بڑی تعداد کے اندر بھگا لیا جانا کتنا بھی خوش آئند ہو، کافی بہرحال نہیں؛ گھر تو گھر ہے؛ سب نہ سہی کچھ مسلمان بچے تو کسی نہ کسی وقت واپسی کی راہ لے ہی لیں گے؛ اور کیا بعید ایسے کچھ ہی بچے اِس فرعون کے محلات مسمار کر دینے کو کافی ہوں۔
اب تو کسی طرح یہ یقینی بنایا جائے کہ اِس گھر کے بچے جب واپس آئیں تو بھی ان کو یہ گھر نہ ملے۔ اصل کامیابی یہ ہو گی کہ مسلمان بچے بے راہ روی چھوڑ کر اسلام کی جانب لوٹیں تو بھی ان کو کسی اور ہی ’اسلام‘ سے واسطہ پڑے۔ ایسا ہو جائے پھر تو کیا ہی بات ہے! رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ جب ایسا ہو جائے گا تو پھر…. مسلمانوں کے بچے ”بے راہ رو“ ہو لیں یا ”مذہب پسند“، سبھی راستے ”روم“ کو جا رہے ہوں گے!
چنانچہ مسلمانوں کے ہاتھ سے اسلام کی صرف عملی تصویر نہیں، بلکہ اسلام کی علمی تصویر ہی کو چھین لے جانا آج اِس گلوبلائزیشن کے ایجنڈا پر سر فہرست ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آج کی یہ جنگ صرف اِس ایک نقطے پر ہو رہی ہے؛ اِس کے علاوہ کوئی اور ایجنڈا اس جنگ کے پیچھے ہے ہی نہیں۔ یہ ایک ہی چیز ہے جو ہمارے پاس رہ گئی تھی اور یہ ایک ہی چیز ہے جسے اِس بار وہ ہمارے یہاں سے لینے آئے ہیں۔ اور اس کو لئے کے بغیر اِس بار وہ ہمارے یہاں سے جانے والے نہیں۔

اقتباسات سہ ماہی ایقاظ

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *