اصلی لبرل اور دیسی لبرل

10968485_1594299100806716_1519966874277148075_n

مشرقی اور خاص کر مسلم دنیا کے تناظر میں لبرلزم کی دو اقسام ہیں:
ایک ‘باہر کا بنا ہوا، اصلی’۔ دوسرا، ‘یہاں کا بنا ہوا، دو نمبر’، جس کو ہمارے یہاں ‘اصلی’ کے نام پر بیچا جارہا ہے!
اول الذکر کے مالکان خود اپنا تیارکردہ مال بیچ رہے ہیں، لہٰذا اُن کے ساتھ بات ہوسکتی ہے۔ اُن کے مال میں کیا کیا نقص ہے، اُن کو نشاندہی کرکے دی جاسکتی ہے۔ یہ نقائص بے حد زیادہ ہیں، مگر آپ اُن کے ساتھ گفت و شنید کرسکتے ہیں۔ وہ سننے کے لیے تیار بھی ہوجاتے ہیں۔ کسی کسی وقت وہ آپ کی بات تسلیم بھی کرلیتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی چیز کا عیب دور کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں ، جیساکہ وہ عرصۂ دراز سے اپنی اِن اشیاء کو بہتر سے بہتر بنانے میں لگے ہیں؛ لہٰذا تنقید کو خاصی وقعت دیتے ہیں۔
مگر ‘دو نمبر’ مال بیچنے والوں کے ساتھ آپ یہ معاملہ نہیں کرسکتے؛ کیونکہ ‘اصل’ جس کی نقل ہورہی ہے اِن کی اپنی تیارکردہ نہیں۔ اِن کی مہارت ‘کاپی’ کرنا ہے؛ اور یہی اِن کی کامیابی کا پیمانہ۔ اِس میں کوئی ‘تبدیلی’ یا ‘بہتری’ لانی ہے تو وہ ‘‘اصل’’ والے نے لے کر آنی ہے ۔ اِس پر کسی ‘نظرثانی’ کی ضرورت ہے تو وہ ‘‘اصل’’ والے کا اختیار ہے اور اُسی کو اِس كا كوئی عيب يا نقص جاننے سے بھی کوئی دلچسپی ہوسکتی ہے؛ اِن کی تو چیز ہی تب بکے گی جب وہ زیادہ سے زیادہ ‘‘اصلی’’ معلوم ہو!
چنانچہ دیسی نقالوں کے ساتھ آپ لبرل ازم پر گفتگو نہیں کرسکتے؛ ایک لمحے میں مسئلہ خراب ہوجائے گا۔ ان دانش وروں میں وہ اسپرٹ یکسر مفقود ہے جو مغرب کے فلاسفہ کے ہاں پائی جاتی ہے۔
لبرل ازم کے اصل ‘مالکان’ اپنے نظریے میں سقم تسلیم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے، ہمارے نقال اسے ہر عیب سے ماوراء بتائیں گے، ناقابل تنقید، ‘مقدس گائے’!
آپ ایک ایسے شخص سے کیا مکالمہ کرلیں گے جس کی حدِتخیل یہ ہے کہ وہ یورپی مخلوق نظر آئے اور اس کی ہر چیز یورپ سے آئے!
یہ تو وہ عبقری ہیں جو آپ کو یورپی باشندے کے شکم میں پلنے والے کیڑوں تک کے فوائد انگلیوں پر گنوا دیں!
زیادہ عرصہ نہیں ہوا ترکی کے انقلابی ‘کمال اتاترک’ اور مصر کے عبقری ‘طہ حسین’ کہا کرتے تھے کہ ہمیں اہل مغرب سے میٹھا کڑوا سب ہی لینا ہو گا۔ ڈاکٹر زکی نجیب محمود راہ حق پر آنے سے پہلے کہا کرتے تھے:
‘‘اپنے یہاں فکر کی بالیدگی ناممکن ہے جب تک ہم اپنےفکری ورثے سے جان نہیں چھڑا لیتے، اپنے معاصرین جیسا علمی وتہذیبی طرزِحیات اختیار نہیں کرلیتے، انسان اور کائنات کو اُسی نظر سے دیکھنے نہیں لگتے، بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہم کھائیں تو اُن کی طرح، کام میں جتیں تو اُن کی طرح، کھیل شغل ہو تو ان کی طرح، لکھیں تو اُن کی طرح بائیں سے دائیں’’!
بتائیے کیا ایسے مقلدِجامد کے ساتھ تبادلہ خیال کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟ ایسا شخص جس کی ہر رائے وہی ہونی ہو جو پیشواؤں کی ہے!
اِس خطے کی قسمت میں شاید اصلی چیز ہے ہی نہیں۔ جو چیز دیکھو، دو نمبر!
(جس قوم کے پاس سب سے اصل چیز ہو – یعنی کتابِ ہدایت – اور وہ اس سے لاتعلق ہو، اس پر تعجب بھی کیسا!)
عالم اسلام میں پائے جانے والے مغربی افکار کے ‘‘مقلدین’’ جو آج کل ‘لبرل’ کہلاتے ہیں مغربی افکار میں سے صرف باطل نظریات ہی درآمد کرنے پر سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ خود مغرب نے ایسے باطل نظریات اس گمان پر اختیار کیے تھے جو ان کے خیال میں مغرب میں پائے جانے والے خلفشار کا حل ثابت ہوں گے۔ عالم اسلام کے اپنے حالات ہیں مغرب سے سراسر مختلف ہیں۔یہاں وہ مغرب والے حالات بھی نہیں ہیں یہاں کا ماحول بھی ان افکار کے لیے قطعاً ساز گار نہیں ہے۔ یہاں بھی انہی افکار اور نظریات کی پیوند؟!
مقلدینِ مغرب کو لاحق آفت یہ ہے کہ یہ مغرب کے بعض افکار اور سسٹمز اپنے یہاں کچھ ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے درآمد کررہے ہیں جن کا اپنے یہاں وجود ہی کہیں نہیں ہے!
اس کی ایک مثال: سیاست سے مذہب کو بے دخل کرنے کا فلسفہ جو سیکولرزم کہلاتا ہے، مغرب کو اس نظریے کی اس لیے ضرورت پڑی تھی کہ مغرب میں پائی جانے والی تھیو کریسی(مذہبی شخصیات کی اجارہ داری) جنگ و جدال کا سبب بن رہی تھی، پادریوں کی بلاوجہ کی پابندیوں ، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی لڑائیوں سے زندگی اجیرن تھی ۔ جبکہ مسلمانوں کے ہاں ایسا کچھ نہیں ، یہاں پہلے تو اسلامسٹوں کو اقتدار ملا ہی نہیں، اگر مل بھی جائے تو ایسی اسلام کی نا تعلیمات ایسی ہیں اور نا انکی تاریخ سے ایسی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے ۔مثال کے طور پر اہل سنت نے جس زمانے میں معتزلہ ایک اہم فرقہ تھا کبھی انہیں اپنے اعتقادات تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ علمی مباحث ضرور ہوتے تھے جو کہ ایک مثبت رویہ کی غمازی کرتے ہیں۔ اہل سنت سے اصولی اختلاف کرنے والے فرقوں کو تبدیلی مذہب پر مجبور کرنا تو دور کی بات ہے اہل سنت نے تو کبھی یہود و نصاریٰ کو اپنی قلمرو میں تبدیلی دین پر مجبور نہیں کیا۔مسلمانوں کے خطوں میں دوسرے ادیان کے پیروکار اپنے خاص مذہبی تہواراور عبادت کے رسم و رواج ادا کرنے میں آزاد تھے۔ ایسی فراخ دلی تو آپ کو لبرل ازم میں بھی کہیں نظر نہ آئے گی۔
باطل نظریات کو رواج دینے میں ہم نے اپنے دیسی لبرلز کو نہایت سرگرم عمل پایا ہے لیکن مغرب میں چند اعلیٰ اقدار بھی پائی گئی ہیں اُن پر ہم نے کبھی ان لبرلز کو سرگرم ہوتے نہیں دیکھا! چلیں اُن اشیاء میں بھی تو یہ کبھی اعلیٰ نمونہ بن کر دکھاتے!
تحریر : جعفر شيخ إدريس، ترجمہ: محمد زکریا خان

 

فیس بک تبصرے

اصلی لبرل اور دیسی لبرل“ ایک تبصرہ

  1. ماشاء اللہ بڑی مدلل تحریر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *