عقلی توجیہہ کو پیش آنے والے فریب

13155_1602319863337973_8369813444654996629_n

شریعت اور عقل کا مسئلہ امّت کی تاریخ میں بڑی دیر سے باعث نزاع رہا ہے۔ اس مسئلے میں ایک انتہا یہ رہی ہے کی کہ شرعی احکامات میں کسی حکمت کا قطعاً کوئی عمل دخل نہیں ہے اوریہ صرف ایک اضافی چیز ہے۔جبکہ دوسرا طبقہ اس نظریہ کا حامل ہے کہ شریعت کا ہر ہر حکم واضح طور پر انسان کی جسمانی اور نفسیاتی فطرت اور اس کی عقل سے نہ صرف مطابقت رکھتا ہے بلکہ ایسا ثابت کر کے بھی دکھایا جاسکتا ہے۔ جبکہ ہم اہل علم کو بھی عمومی طور پر یہی کہتا ہوا پاتے ہیں کہ شرعی احکامات صرف آزمائش کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ اس پر عمل کرنے میں دنیاوی اعتبار سے بھی بہت بڑی خیر موجود ہے۔ تو پھر اِس موضوع پر ’میانہ روی‘ کا منہج ہے کیا؟

موجودہ دور ایک اعتبار سے ذہنی آزادی کا دور ہے اور اطلاعات اور مواصلات کے ذرائع کی ارزانی و فراوانی کی وجہ سے یہ ذہنی آزادی ایک طرح قابو سے باہر ہے۔حق تو یہ ہے کہ ایک بار کسی شخص نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیا تو پھر اس کے لئے اسلام کے ہر ہر منصوص حکم کو بلا عقلی دلیل کے تسلیم کرتے چلے جانا لازمی ہے اور عین تقاضائے ایمان ۔ لیکن دعوت کے سلسلے میں ایک چیلنج اس وقت نبی ﷺ کی نبوت کو ثابت کرنا بھی ہے۔ نبوت کو ثابت کرنے کے لئے ایک طریقۂ کا ریہ اختیار کیا گیا ہے کہ شریعت کو عین انسانی فطرت اور عقل کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ بہ الفاظ دیگر یہ ثابت کردیا جائے کہ اسلام اور موجودہ دور کی سائنسی دریافتوں میں کمال کی مطابقت پائی جاتی ہے۔

امّت کے کچھ قابل قدر مبلغین نے قرآن کے بیان کردہ کائناتی حقائق اورجدید سائنسی دریافتوں کے درمیان مطابقت ثابت کرنے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی ہے۔ اصولی طور یہ بات غلط بھی نہیں ہے۔ اگرچہ سائنس قرآن کا اصل موضوع نہیں ہے لیکن جب خالق کائنات کے بیان میں کوئی چیز ضمناً ہی آ جائے تو وہ مطلق حق ہے جس میں غلطی ہو ہی نہیں سکتی۔البتہ اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ یہاں پرہمارا مقصود ان کوششوں کو دیکھنا ہے جن میں شریعت کے احکامات کو انسانی عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر دکھایا گیا ہے؛ جن کے اندر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ شرعی احکامات پر عمل کرنے سے دنیاوی زندگی میں انسان کو کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام ذہنی عمل کے معاملے میں – مخصوص حدود کے اندر رہتے ہوئے – انسانی آزادی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اپنے ماننے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غور و فکر کر کے اسلام کو شعوری طور پر قبول کریں۔ نیز یہی چیز ایک غیر مسلم کے اسلام کو قبول کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ اسلام شعوری طور پر قبول کرنے میں اور اسلام ورثے میں پانے میں بڑا فرق ہے۔

اس سلسلے میں اس سے بھی بڑی پیچیدگی ایک اور ہے جو کہ دراصل اس وقت ہمارا موضوع ہے۔اس طرزِ تحقیق میں یہ مان کر چلا جاتا ہے کہ گویا پورا کا پورا انسانی فہم بس حیاتیات ، علم طب، علم کیمیا یا فزکس تک محصور ہے، بلکہ یہ کہ پوری حقیقت ہی انسانی فہم و تحقیق کے اِن میدانوں کے اندر محصور ہے لہٰذا ’نماز‘ کے فوائد بھی ہوں تو ان کی تلاش یا تو حیاتیات کے علم کے معیار پر ہو، یا کیمیا یا فیزکس یا ایسے ہی کسی اور میدان کے اندر!
وہ چیزیں جوعبادات اور مناسک سے متعلق ہیں ان کی تحقیق کے لئے بھی نظریں انہی علوم کی طرف اٹھتی ہیں اور جو اس سلسلے میں اطمینان قلب کے حصول کا طالب ہے وہ بھی یہی سمجھتا ہے کہ اس سلسلے میں اطمینان قلب کے لئے اس کو طبی طور پر ثابت ہونا ضروری ہے!
آئے روز اس طرح کے مضامین نظروں سے گذرتے رہتے ہیں کہ نماز، روزہ، وضو وغیرہ سے کیا کیا طبی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔قطع نظر اس سے کہ یہ تحقیق کتنی صحیح ہے اس طرح کی تحقیق میں بعض اوقات بڑی پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی کچھ مثالیں یہاں پر دی جا رہی ہیں۔
انٹرنٹ سے ایس ایم ایس تک ایسے چرچے سنے جائیں گے کہ مثلاً اسلامی طریقے پر ذبح کرنے سے جانور کا گوشت خون سے بالکل پاک اور صحت کے لئے انتہائی مفید ہوتاہے، جس میں بین السطور کہا گیا ہوتا ہے کہ: ’تو پھر اب تو ’طب‘ نے بھی ثابت کر دیا کہ اسلام برحق ہے‘!
ہمارے خیال میں یہ دعویٰ کہ اسلامی طریقے پر ذبح کرنے سے جانور کا گوشت خون سے بالکل پاک اور صحت کے لئے انتہائی مفید ہوتاہے اگر چہ نہایت قرین صواب ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں جس کا خالص طبی یا حیاتیاتی جواب ممکن نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ذبح کرنے کے لئے پوری کی پوری ’ٹیکنیک‘ اسلامی اختیار کرے لیکن اللہ کے نام کے بغیر کسی اور نام پر ذبح کرے تو پھر وہ گوشت کیوں حرام ہوجاتاہے؟! اگر ’فیصلہ‘ علمِ طب سے اور طبی معیاروں پر لیا جانا ہے تو غیر اللہ کے نام پر ’ذبح‘ کئے جانے والے جانور کے حرام ہونے کی کچھ ’طبی‘ وجوہات کا بھی تو ذکر ہو!
اس کی ایک مثال وضو کے ’طبی فوائد‘ بیان کرنے سے بھی دی جا سکتی ہے۔ اگر صحیح طریقے پر وضو کرنے کے ’طبی فوائد‘ ہیں تو پھر ہر نماز کے لئے علیحدہ وضو کرنا کیوں ضروری ہے؟ یہ کیوں ہے کہ بیت الخلاءجاکر آنے سے وضو ٹوٹ جاتاہے؟ ایسا کیا ہے کہ جوطبی فائدہ موجود تھا وہ بیت الخلاءہوکر آنے سے یا ہوا کے خارج ہو جانے سے ایک دم مفقود ہو گیا؟
یہ پورا مسئلہ اس لئے کھڑا ہوا ہے کہ کسی چیز کی ’عقلی توجیہ‘ کا مطلب ہی غلط سمجھ لیا گیا ہے۔ چونکہ موجودہ دور میں عقلی توجیہات کا علم ایجاد ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ مغرب سے درآمد شدہ تنقید کا سامنا کیا جائے اس لئے اس طریقۂ تحقیق میں بھی وہی کمزوریاں درآئی ہیں جو مغربی طرز تنقید میں موجودہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عبادات اور مناسک میں صرف طبی توجیہات کی جستجو کرنا انتہا درجے کی کم نظری اور سطحیت ہے۔کیا واقعی کسی چیز کی عقلی تائید کے لئے صرف علم طب میں اس کے فوائد ڈھونڈنا ایک صحیح معیار ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ سطحیت مغرب سے برآمد ہر چیز کی خاصیت ہے۔ چاہے وہ جمہوریت ہو، آزادی رائے ہو یا نظامِ سرمایہ داری۔ . مقصود مغرب کی تحقیق یا ذہانت کی نفی نہیں ہے بلکہ مرادیہ ہے کہ عموماً جب کسی چیز کی اہمیت معلوم کی جاتی ہے تو اس طرح کا انداز اختیار کیا جاتا ہے کہ بس یہی ہے اور باقی کوئی بھی چیز اہمیت نہیں رکھتی۔
(جاری ہے)
تحریر ابو زید

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *