سیکولر ازم ایک بےروح اور کھوکھلی تہذیب

12
ہمارے ہاں سیکولر ازم کا روئتی تصور روشن خیالی، جدت اور ترقی پسند ی سے مخصوص سمجھتا ہے حالانکہ سیکولرازم کی حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ یہ سیکولرازم کا طریقہ واردات ہے ۔ یہ ابتداء میں ایک تنقیدی شکل میں سامنے آتا ہے جس کا ہدف کسی معاشرے کی قدامت اور اسکی پرانی روایات ہوتی ہیں اور یہ سب کھیل ترقی اور جدیدیت کے نام پر ہوتا ہے ۔ پھر دوسرے مرحلے میں یہ قدروں پر حملہ آور ہوتا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ لڑکھڑانے لگتا ہے ، اولین شکار عقائد اور ایمانیات کا وہ مجموعہ ہوتا ہے جو ہر طاغوتی حملہ کے خلاف حیات انسانی کا واحد سہار ا ہوتا ہے، یہ طرز فکر اس سے عبارت سب چشمہ ہائے حیات کو خشک کردیتا ہے۔ سیکولرازم کوکسی بھی معاشرے میں اپنے قدم جمانے کے لیے اس پربڑا حملہ کرنا انتہائی ضرور ہوتا ہے ، سیکولر پارٹیاں بخوبی سمجھتی ہیں کہ سیکولرازم (لادینیت)کو تبھی فروغ مل سکتا ہے جب ملک و قوم کی مذہبی شناخت ختم کردی جائے ۔تیسرے مرحلے میں اپنے مقابل کے خلاف اس کا رویہ جارحانہ ہوجاتا ہے اور یہ زندگی کے ہر شعبہ پر اپنی گرفت قائم کرنا چاہتا ہے اسے آپ سیکولرازم کی تنگ نظری کہہ لیں یا پھر سیکولروں کا پسندیدہ مغرب کا مادر پدر آزاد انداز فکر اور طرز زندگی ہے جسے وہ نافد کرنا چاہتے ہیں ۔
ایک اذیت ناک امر یہ بھی ہے کہ مسلمان معاشرے کی توڑپھوڑ اور نئی صورت گری کے لیے مغرب اور ہندوستان کے پاس قابل فروخت مال سیکولرازم ہی ہے ۔ سامراجیت کی تجسیم نو ممکن ہی نہیں اگر اسے لادینیت کا سہارا اور تصور مہیا نہ کیا جائے۔یہ اس لحاظ سے ہمارے قومی وجود کے لیے ذیادہ خطرناک ہے اور جب بھی ہندوستان یا امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے کوئی مصیبت کھڑی کی گئی تو انہیں افغانستان کے ‘شمالی اتحاد’ جیسے کسی چہرے کی تلاش ہوگی اور یہی سیکولر عناصر اور پارٹیاں فورا لبیک کہیں گیں۔
سیکولرازم اپنے قبول کرنے والوں سے جو قیمت مانگتا ہے وہ بھی بے حد گراں ہے ۔ یہ انسان کو روحانیت سے محروم کرکے اسے محض ایک مادی انسان بنا دیتا ہے ، روحانیت سے محروم یہ ادھورا وجود جب کوئی معروضی طور طریق سامنے نہیں پاتا تو مایوس ہو کر اپنی ذات کی طرف لوٹتا ہے لیکن اسے یہاں بھی بے چینی اور اضطراب کے سوا کچھ نہیں ملتا ، بغیر سانچے کی لائف ، نہ اخلاق نہ قدریں ، ایک بے سکون اور ناپائیدار زندگی ، ایک بے سمت تغیر جس میں ثبات نہیں ، جس میں حرکت تو ہے لیکن بے منزل بے مراد ، اسے قدم قدم پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے لیکن نہ کوئی میزان سامنے ہوتا ہے اور نہ کسوٹی ۔ ۔یہی وجہ ہے کہ وہ مسلم معاشرے جنہوں نے اول اول لادینیت کا زہر نگلا، انجام کاری قوت سے عاری، لنگڑے لولے وجودبن کر رہ گئے ہیں کیونکہ جسموں سے حرکت پذیری کا داعیہ نچڑ چکا ہے اور اسلام کی کشمکش میں انکی روح اور وجود باہم متصادم کھڑے نظر آتے ہیں ۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *