دیسی لبرلز/ملحدین کی تضاد بیانیاں اور مغالطے

1

دیسی لبرل اور ملحد ہر جگہ یہ باور کراتے پھرتے ہیں کہ وہ نیوٹرل ہیں، ان کے خیالات ہر قسم کے تعصبات سے ماورا ہوتے ہیں..

لیکن ان کی سوچ کا تجزیہ کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ جن ملاؤں کو متشدد اور انتہا پسند کہتے ہیں خود ان سے بھی بڑھ کر متشدد اور انتہا پسند سوچ رکھتے ہیں . مذہب اور مذہبی لوگوں کے بارے میں جتنے یہ گہرے متعصب اور متشدد ہیں اتنا کوئی بھی نہیں۔
مثلاً ان لوگوں کی اکثریت سامراجی جنگوں کی حمایتی اور اپنے مخالفین کی قتل و غارت کو جائز سمجھتی ہے۔ یہ لوگ حکومتوں کو اکساتے ہیں کہ وہ مذہبی لوگوں پر تشدد اور جنگیں مسلط کریں، ان کو تباہ برباد کر دیں.
دہشت گردی کے کسی واقعہ میں چند معصوموں کی ہلاکت کی کبھی مذمت کردیتے ہیں اگر اس سے اپنے موقف کو سپورٹ مل رہی ہو یا صرف اس لیے کہ قتل و غارت کی مذمت کرنا قابلِ تعریف رجحان سمجھا جاتا ہے، مگر سامراجی جنگوں میں لاکھوں کی تعداد میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں مذمتی کلمات کبھی بھولے سے بھی انکی زبانوں سے نہیں نکلتے۔
اسی طرح ان لوگوں کی اکثریت امریکی و مغربی سامراج کی مسلط کردہ جمہوریت کے حق میں ہے، مگر جمہوریت کے اس غیر انسانی کردار کو سامنے لانے سے گریزاں ہیں، جس کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ الٹا مغالطہ یہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار یہ ملا ہیں ، چنانچہ عوام کو درپیش بھیانک مسائل کا ذمہ دار اس سرمایہ دارانہ نظام کو ٹھہرانے کے بجائے مذہب اور مذہبی لوگوں کو ٹھہراتے ہیں۔
آپ انکے فیس بک پیجز اور گروپس کا وزٹ کریں تو وہاں اکثر آپ کو کسی غریب بچے بچی کی تصویر نظر آئے گی جو گندگی کے ڈھیر سے چاول، پھل وغیر اٹھا کے کھارہا ہوگا اورانہوں نے ساتھ کمنٹ لکھے ہونگے کہ “کیا وجہ ہے کہ اللہ پتھر میں چھپے ہوئے کیڑے کوتو رزق پہنچانے کا دعوی کرتاہے لیکن انسان کو رزق پہنچانے میں ناکام ہے .!!

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *