اعتبار کرنا پڑتا ہے ۔ ۔ ۔!!

10610914_1509641452605815_4824069460851349743_n

ملحد کہتے ہیں کہ تم اہل مذہب نبی کے سچا ھونے کی بنا پر اس پر اعتماد کرکے سب کچھ مانتے ھو.یہ غیر عقلی رویہ ھے۔
اگر انہیں کہا جائے کہ یہ جسے آپ لوگ اپنا والد کہتے پھرتے ھیں اور اس بنا پر اپنے ناموں کے ساتھ پٹھان، پنجابی، جٹ، آرائیں وغیرھم لگائے پھرتے ھیں یہ بھی تو صرف ایک عورت ھی کی گواھی کی بنا پر ہے کہ “فلاں تمھارا باپ ھے” (وہ بھی ایسی عورت جسے کئی معاملات میں ھم خود جھوٹ بولتا دیکھتے ھیں)؛
تو اسکے جواب میں وہ کہتے ھیں کہ ھم اس مسئلے کو ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ثابت کرسکتے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔
پہلی بات یہ دعویٰ سے کہا جاسکتا ہے کہ آج تک کسی ملحد نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کروایا. یہ خود سب اندها اعتماد کرکے ہی چل رہے ہیں
دوسری یہ ‘ٹیسٹ کروا سکتے ہیں’ والی بات اتنی سادہ نھیں اور نہ ھی اس سے ان ملحدوں کا مسئلہ حل ھوجاتا ھے کیونکہ اس معاملے میں بھی انھیں بے شمار مفاد پرست اور بسا اوقات جھوٹے و بدکردار ڈاکٹروں و نرسوں پر بھروسا کرنا ھوگا۔
کونسے میڈیکل انسٹرومنٹس و مشینیں وغیرہ واقعی درست و اپ ڈیٹڈ ھیں اسکا فیصلہ کرنے کے لئے ان مشینوں سے متعلق وسیع میڈیکل علم کی ضرورت ھے
– خون پر واقعی ٹیسٹ اپلائی کیا گیا؛ یہ بھی تو ممکن ھے کہ یونھی رپورٹ بنا کر ان کے ھاتھ میں تھما دی گئی ھو، کونسا انکے سامنے ٹیسٹ ھوتا ھے یہ تو سمپل دے کر گھر آجاتے ھیں۔
پھر ان کی رپورٹ انہی کو دی گئی؛ یہ بھی تو ممکن ھے کہ کسی اور کے ٹیسٹ کی رپورٹ پر انکا نام لکھ کر انھیں تھما دی گئی ھو وغیرھ۔ ۔
– پھر میڈیکل سائنس و جینیٹکس کا سارا علم بھی تو ظنی ہے، اس میں کئی نظریات بیک وقت موجود ھوتے ھیں۔ اب کونسا نظریہ درست ھے اسکا فیصلہ کرنے کے لئے بھی وسیع علم کی ضرورت ھے۔
الغرض ان ریشنلسٹوں کے پاس اپنی حلت نسلی کو ثابت کرنے کا “سوائے اعتبار کرنے” کے کوئی چارہ نھیں.
دوسرا راستہ یہ ہے کہ سب ملحدین بذات خود یہ تمام متعلقہ علم سیکھ کر، تمام انسٹرومنٹس خود ایجاد کرکے اور اپنی ھی زیر نگرانی یہ ٹیسٹ کروا کر اپنی اپنی رپورٹس پیش کریں.
یا پھر اعلان کردیں کہ ھمیں اپنی نسلی حلت ثابت ھی نہیں کرنی ھمیں خود کو “ـــــــــــــ” کہنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے.
زاہد مغل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *