سیکولرازم کا معنی – مسئلہ آخرت بےکار سوال ہے۔!

s

سیکولرازم کا تقاضا یہ مان لینا بھی ہے کہ معاشرتی و ریاستی صف بندی میں یہ سوال کہ ‘ افراد اس معاشرے میں زندگی بسر کرنے کے بعد جنت میں جائیں گے یا جہنم میں ‘ ایک لایعنی و مہمل سوال ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بات کہ آیا ‘ افراد کو معاشرے میں ذیادہ نیکیاں اور کم گناہ کمانے کے مواقع میسر ہیں’ ایک بے کار سوال ہے۔ کیونکہ جونہی’ نیکی اور بدی کے مواقع’ کا سوال اٹھایا جائے مذہب فورا ذاتی زندگی سے نکل کر اجتماعی میدان میں آجائے گا۔
اسلامی نکتہ نگاہ سے معاشرتی صف بندی میں اصل اور فیصلہ کن سوال ہی یہ ہے کہ افراد کو جنت میں جانے کے مواقع ذیادہ فراہم ہیں یا جہنم میں ( ترغیب منکر کی ہے یا معروف کی؟)۔ مذہب کو فرد کا نجی مسئلہ قرار دینے کا مطلب یہ اعلان کرنا ہے کہ مرنے کے بعد جنت و جہنم میں جانا بے کارو بے معنی معاملات ہیں’ جبکہ اسلام سب سے اہم اور پہلا سوال ہی یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی شخص کہاں جائیگا۔ یہ محض نظریاتی باتیں نہیں بلکہ دنیا میں جہاں بھی سیکولر جمہوری اقدار( آزادی اور مساوات) کا فروغ ہوا، ان معاشروں کے افراد کی زندگیوں میں فکر آخرت اور مرنے کے بعد کی زندگی کا سوال بے کا ر ہوتا چلا گیا۔ درحقیقت افراد کی نجی زندگی میں وہی اقدار پنپتی ہیں جو اجتماعی زندگی میں قابل قدر سمجھی جارہی ہوتی ہیں !!۔ جن ذاتی اقدار کا اجتماعی زندگی میں کامیابی و ناکامی سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو آخر فرد کیونکر انہیں اختیار کرتا چلا جائے گا؟
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا اجتماعی نظام فرد کو علم دین کے حصول کے کسی درجے میں بھی مجبور نہیں کررہا تو دینی علوم کا حصول افرا کی نجی زندگیوں میں غیر متعلقہ ہوتا جارہا ہے مگر سائنسی علوم ہر کسی کا مطمع نظر بنتا جارہا ہے کیونکہ جدید اجتماعی زندگی اسی علم کے ارد گرد تعمیر کی گئی ہے۔

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *