روشنی کا مینار، تہذیب کا نقشہ گر

10343658_1575583539344939_4748022783196652534_n

یہ ہے وہ معلمِ اخلاق جس نے برہنہ ہوچکی انسانیت کے تن کو تہذیب کی چادر از سر نو پہنائی۔ ظلم اور استحصال کی ایک نہیں ہزاروں صورتیں ختم کرائیں!!!
دین کا استحصال، اَخلاق کا استحصال، تہذیب کا استحصال، حق کا استحصال۔۔ ظلم اور جہالت کی کونسی صورت ہے جو اپنے عروج کو نہ پہنچ چکی تھی اور جسے خدا کے اِس آخری نبی نے نابود کئے بغیر چھوڑ دیا؟!!
سب سے بڑا جھوٹ وہ ہے جو خدا کے نام پر بولا جائے۔ سب سے بڑا ظلم وہ ہے جو خدا کے نام پر روا رکھا جائے۔۔ انسان کی بدبختی یہاں تک نہ تھی کہ اُس کی روح، اُس کے فکر، اُس کی خرد اور اُس کے ضمیر پر منوں کے حساب سے ظلم اور جہالت کا انسانی ملبہ ڈال دیا گیا تھا، بلکہ بدبختی یہ ہو چکی تھی کہ یہ ظلم خدا کے نام پر ڈھایا جا رہا تھا!
مورخ آج ہمیں ہر امت ، ہر قوم اور ہر مذہب کے عبادت خانوں میں دیو داسیوں پر گزرنے والی ایسی ایسی کہانیاں سناتا ہے، جنہیں سن کر پوری نوعِ انسانی کا سر شرم سے جھک جائے۔ محمدﷺ نے تہذیب کو اس کا غصب شدہ لبادہ دلوایا تو دنیا نے دیکھا، ہر ہر مذہب اور ہر ہر دھرم ہی اپنا یہ ننگ چھپا لینے پر مجبور ہوگیا۔ کسی خرد مند کو آج اِس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بعثتِ محمدی کے نتیجے میں دنیا کا ہر مذہب اور ہر مذہبی رویہ ہی ایک ارتقا سے گزر چکا ہے اور یہ عمل ہنوز جاری ہے۔۔۔۔
کہاں وہ دن کہ کعبہ میں ایک جانب بت پوجے جاتے ہیں تو دوسری جانب برہنہ طواف ہوتا ہے۔ خدا کا تقرب پانے کیلئے آئے ہوئے مرد ہی نہیں عورتیں عریاں ہوکر طواف کرتی ہیں، کہ جن کے وہ الفاظ جو وہ برہنہ بدن مطاف میں اترتے وقت کہا کرتی تھیں، آج تک حافظہ ٔ تاریخ نے محفوظ کر رکھے ہیں:
الیَومَ یَبدُو بَعضُہ اَو کُلُّہ
فَمَا بَدَا مِنہُ فَمَا اَحِلُّہ
”آج تو بدن کا کچھ حصہ کھلے یا پھر سارا ہی کھل جائے۔ خیال رکھو میرے بدن کا جو حصہ کھل جائے اس (سے لطف اٹھانے) کی میری طرف سے اجازت نہیں“!
اور کہاں وہ دن کہ مکہ فتح ہوتا ہے تو بیت اللہ میں پڑے بتوں پر تیشے چل جاتے ہیں اور پورا عرب دم بخود ہو کر دیکھتا ہے۔ تن تنہا کوئی شخص بھلا یوں بھی کامیاب ہوتا دیکھا گیا ہے؟!!! ’جزیرہ‘ آج اِس ”اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول“ کے ساتھ کھڑا ہے!!!

کہاں وہ تہذیب جو دخترِ حوا کو جنسِ بازار کے طور پر جانتی ہے۔ چمڑی اور غازے کی کمائی جس کے ہاں ’ریونیو‘ کی ایک بڑی مد ٹھہرتی ہے۔ معاشرے کا ایک ’معزز‘ عبد اللہ بن اُبی جہاں کئی اور کاروبار کرتا ہے وہاں اس نے ’جنسِ لطیف‘ پر بھی ’انوسٹمنٹ‘ کر رکھی ہے؛ اِن عورتوں کو اپنے حسن و اَدا کی کمائی سے بستی کے ایک شملہ بردار کے حق میں ’ذریعہ ٔ آمدن‘ بن کر رہنا ہے! (وہی چیز جو ’حقوقِ نسواں‘ کے نام پر خدا کی اِس مخلوق کا استحصال کرنے والے آج بھی کر رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا ’شوبز‘ جو آج کی دنیا میں ساہوکاری کی ایک بدترین وکریہہ ترین وبے رحم ترین شکل ہے، پوری کی پوری انڈسٹری ’عورت‘ کی چمڑی پہ قائم ہے!)۔۔۔۔
جس یثرب میں یہ نبیِ پاک پیر دھرے، بھلا کیسے ہوسکتا ہے وہاں ’ابن اُبیوں‘ کے یہ سب نا پاک کاروبار جوں کے توں چلیں! اعلان ہو جاتا ہے:
وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاء إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَۃ الدُّنْيَا (النور:33)
”اور اپنی لونڈیوں کو پیشے پر مجبور مت کرو، جبکہ وہ عصمت کی زندگی گزارنا چاہیں، اِس لئے کہ تم کو دنیا کی زندگی کا مفاد مطلوب ہے“

یہی ہے وہ نبی جس کی تعلیم آج بھی آدھا جہان عقیدت سے سنتا ہے اور اُس کی یہ تعلیم جب نفس کے رُویں رُویں میں اترتی ہے تو زمین پر بے مثال پاکیزگی کا دور دورہ ہونے لگتا ہے۔ خدایا! کیا نفس کی صفائی اور دھلائی یوں بھی ہوتی ہے اور کیا ”تہذیب“ کا دائرہ یہاں تک جاتا ہے؟! کیا رِفعت میں اِس نبی کے پیروکار یہاں تک جاتے ہیں، اور کیا ’میڈیا کے دور میں‘ آج بھی محمدﷺ سے یہ سبق لئے جاتے ہیں؟!۔۔:کہاں وہ ’جسم‘ کی چمک، جو ’تہذیب‘ کے چولے میں سڑاند بن جاتی ہے اور کہاں یہ ’روح‘ کی تابناکی جو ضمیر کو مہکاتی ہے!

 

کیا کسی نے غور کیا، اِس نبی کے پیر دھرنے کی دیر ہے، وہ بستی جو کل تک ’یثرب‘ کے نام سے جانی جاتی تھی آج ’مدینہ‘ کہلانے لگتی ہے! ’مدینہ‘۔۔ کہ جس سے ’تمدن‘ مشتق ہو، یعنی۔۔۔۔ ’مدنیت‘ کی اساس طے کرنے کا سوال اٹھے تو نگاہِ انسانی کو جواب تلاش کرنے میں لمحہ بھر دشواری نہ ہو!
کوئی کیا جانے ’مدینۃ النبی‘ کیا ہے؟۔۔۔۔ آسمان کے نقشے پر وجود میں آنے والا زندہ انسانی معاشرہ، جو چند ہی سالوں میں پوری دنیا کی رائج ترین تہذیب کا حوالہ بن جانے والا ہے؛ جہانِ انسانی کا ایک ایسا نقشہ کہ آسمان سے ایک آیت اترتی ہے تو لمحوں میں ’سماج‘ کے اندر رچ بس جاتی ہے اور ’سماج‘ اِس سے وہ روئیدگی لاتا ہے کہ ’فلسفیانِ اَخلاق‘ اِس پر بس رشک ہی کریں:
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
”بخدا، کتاب اللہ کی تصدیق کرنے اور تنزیلِ خدواندی پہ ایمان رکھنے میں میں نے انصارِ مدینہ کی عورتوں سے بڑھ کر کسی کو نہ پایا۔ سورہ ٔ نور اس آیت کے ساتھ اتری: ”پس چاہیے یہ اپنے سروں کی چادروں سے اپنے سینے ڈھانپ لیں اور اپنے سنگھار کی نمائش نہ ہونے دیں“، اِن کے آدمی خدا کی اِس وحی کی تلاوت کرتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹے۔ ایک ایک آدمی اپنی بیوی، اپنی بیٹی، اپنی بہن اور اپنی ہر رشتہ دار کو خدا کا حکم سنا رہا تھا۔ تب کوئی عورت نہ رہی جس نے اپنی چادر نہ اٹھا لی ہو اور اُس میں لپٹ سمٹ نہ گئی ہو، خدا کے حکم کی تصدیق اور اس پر مکمل اظہارِ ایمان کرتے ہوئے۔ تب یہ حال تھا کہ اگلی صبح نماز میں، یہ سب کی سب، چادروں میں لپٹی رسول اللہﷺ کے پیچھے کھڑی تھیں، گویا ان کے سروں پر کوّوں کے غول ہیں“!(تفسیر ابن کثیر، در بابت سورۃ نور، آیت:)

کیا کوئی یقین کر سکتا تھا، ’عرب‘ ہوں اور ’بادہ نوشی‘ کے بغیر ان کا کوئی پل گزر جائے! کیا کوئی زبان دنیا میں پائی جاسکتی ہے کہ جس میں شراب کے ڈھائی سو نام ہوں!؟ علامہ فیروزآبادی نے عربی میں پائے جانے والے اِن ناموں کے بیان پر پوری ایک کتاب لکھی ہے۔
مگر ہم دیکھتے ہیں جب اِس نبی کے تیار کردہ معاشرے پر آسمان سے ایک آیت اتر آتی ہے، اور مدینہ کی گلیوں میں اِس کی منادی کرادی جاتی ہے: ’لوگو! شراب حرام کر دی گئی‘، تو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے جام پھر لبوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ صراحیاں توڑ دی جاتی ہیں۔ مٹکے پھینک دیے جاتے ہیں۔ صدیوں کی منہ کو لگی ہوئی، ایک دن میں چھڑا دی جانا کوئی مذاق نہیں۔ یہ اللہ کا نبی ہے جو صداقت اور پاکیزگی کی وہ محیر العقول مثالیں قائم کرانے آیا ہے جو زمین نے اِس سے پہلے کبھی دیکھی ہوں اور نہ اِس کے بعد۔ بخاری کے الفاظ ہیں:
فَجَرَت فِی سِکَکِ المَدِینَۃ
”تب مدینہ کی گلیوں میں شراب بہتی پھرتی تھی“!
آخر وہ کتنی ہو گی جو گلیوں میں بہتی پھرتی تھی؟! ’مدینہ‘ دارِ تہذیب ہی کا تو دوسرا نام ہے!!!

کہاں وہ تاریکی جسے مسلمان بچہ بچہ ’دورِ جاہلیت‘ کے نام سے جانتا ہے۔۔ اور کہاں اِس نبی پر اترنے والا یہ آسمانی شاہکار جس کے دم سے ’انسانیت‘ کا برہنہ سر پھر سے ڈھانپا جاتا ہے اور ’روئے تہذیب‘ کی پراگندگی پھر سے سنوار دی جاتی ہے۔۔ یہ سورت جس کو پڑھ کر عورت کا ’ماں‘، ’بیوی‘، ’بیٹی‘اور ’بہن‘ والا روپ پھر سے جہانِ انسانی کا مقبول ترین دستور ٹھہرتا ہے۔۔ آسمان کا یہ شاہکار ”نور“ کہلاتا ہے، یعنی ”روشنی“۔۔ ”آسمان کی روشنی“ جو چودہ سو سال سے اِس نبی کے ہر امتی کے گھر میں ”تلاوت“ ہوتی ہے، اور جس سے کہ ’تہذیب‘ کے نام پر ’تجارتِ زن‘ کا بازار گرم کر رکھنے والے ’ہول سیلروں‘ کی آج بھی جان جاتی ہے!

حامد کمال الدین

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *