تحفظ عورت، خاندان اور مارکیٹ ۔۔۔۔ ایک اھم شبے کا ازالہ

اس عنوان کی پچھلی پوسٹ میں بتایا گیا کہ مارکیٹ معاشرت کیونکر عورت کی کفالت کا بوجھ اسکے کاندھوں پر ڈال کر اس پر ظلم کرتی نیز اسے غیر محفوظ کرتی ھے۔ اس پر ایک شبہ یہ وارد کیا جاتا ھے کہ موجودہ خاندانی نظم کے اندر بھی عورت پر طرح طرح کے مظالم ھوتے ہیں نیز اگر عورت بیوہ یا طلاق یافتہ ھوجائے اور اسکے باپ یا بھائی اسکی کفالت کی ذمہ داری نہ اٹھائیں یا اٹھانے لائق نہ ھوں تو اس عورت کیلئے تو مارکیٹ کا حصہ بننا ایک نعمت ھے، گویا مارکیٹ ایسی خواتین کیلئے بہترین متبادل فراہم کررھی ھے۔

مگر اعتراض کرنے والے نے خاندان کا نقشہ بس ‘ماں باپ اور بچوں’ تک محدود سمجھا، ظاھر ھے جسے خاندان بمعنی ‘برادری’ یا ‘قبیلہ’ کہتے ہیں وہ محض ان تین تعلقات کا نام نہیں بلکہ اس سےبہت وسیع تر تصور ھے۔ تو پہلی بات یہ کہ خاندانی نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ واقعی موجود ھو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ عورت کی قوت اسکی برادری و خاندان ھوتا ھے اکیلی عورت نہیں، لہذا اسے دبوچ کر اس پر ظلم کر لینا کوئی آسان کام نہیں ھوتا۔ دوسری بات یہ کہ جو عورت بیوہ ھوجائے یا اسے طلاق ھوجاۓ تو اس کا مداوا بھی یہی نظام کردیتا ھے۔ مثلا ہمارے یہاں آج بھی اس امر کی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی بیوہ اور اسکے بچوں کو سہارا دینے کیلئے (اپنی تمام تر خواہشات کی قربانی دے کر) اس سے نکاح کرلیتا ھے، اگر نکاح ممکن نہ ھو تب بھی دادا یا دیگر بھائی وغیرھم ملکر خاتون خانہ اور اسکے بچوں کی کفالت کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے معاشرے اور خاندانوں میں ہر سو پھیلی یہ مثالیں نظر نہیں آتیں، ہاں چند ظلم کرنے والے مرد نمایاں نظر آتے ہیں۔ اسی طرح اگر طلاق ھوجائے تو بھی عورت بے یارومددگار نہیں ھوجاتی (ویسے یہ بھی عجیب ذہنیت ھے کہ جدید ذہن کو طلاق کے بعد ہمیشہ عورت ہی کی فکر دامن گیر رہتی ھے، مرد اپنے بچوں کی پرورش کے حوالے سے جو پریشان ھوتا ھے وہ تو اسکے یہاں کسی کھاتے میں ہی نہیں)۔

چنانچہ مسئلہ تب پیدا ھوتا ھے جب فرد کی ان بنیادوں پر تربیت نہ کی جائے یا ممکن نہ رھے جو خاندانی نظام کے کرائسز مینیجمنٹ پروسسز کو اکٹیویٹ کرتی ھے، اور اس تربیت سازی میں بہت بڑی رکاوٹ خود جدید تعلیم و مارکیٹ سوسائٹی کا پھیلاؤ ھے جو فرد کو خود غرضی کی عقلیت و جبر قبول کرنے پر راضی کرتی ھے۔ خواہشات و ذاتی اغراض کا اسیر یہ ‘فرد’ (ھیومن) تو ماں باپ کو ہی گھر سے نکال باہر کرتا ھے، بیوہ یا مطلقہ عورت کا رونا کیا روئیں۔ گویا خاندان کا تحفظ ختم ھونے سے صرف ‘روایتی عورت’ (ماں، بہن، بیٹی، بیوی) ہی غیر محفوظ نہیں ھوتی بلکہ ‘بوڑھے’ (ماں باپ) بھی غیر محفوظ ھوجاتے ہیں۔ درحقیقت مارکیٹ یا سول سوسائٹی انفرادیت کے ہر روایتی اظہار یا تعلق کو غیر معقول و لایعنی بنا کر انکے وجود کو ‘غیر محفوظ’ کردیتی ھے۔ ایسا اس لئے کہ مارکیٹ یا سول سوسائٹی ‘مجرد فرد’ کی تکمیل اغراض کی خاطر وجود میں آنے والے تعلقات کا نظام ھے۔ اس معاشرت میں ‘اغراض سے ماوراء’ ہر تعلق غیر معتبر ھوجاتا ھے لہذا محبت و صلہ رحمی کی بنیاد پر تشکیل پانے والی اجتماعیتیں (مثلا خاندان و قبائل) تحلیل ھوجاتے ھیں۔ ھیومن رائٹس پر مبنی اس معاشرت میں ہر فرد کو اپنا ‘area of non-encroachable’ (ذاتی زندگی کے حقوق کا وہ دائرہ جس میں ‘کسی’ کی مداخلت جائز نہیں) کا تحفظ اور اس میں توسیع ہر دوسری شے سے عزیز تر ھوتی ھے، لہذا اس معاشرت میں خاندان لازما تحلیل ھوکر رھتا ھے (جس معاشرت میں ھیومن رائٹس کے نام پر بچوں کی شکایت پر ماں باپ کو عدالتوں اور تھانوں میں طلب کیا جارہا ھو بھلا وہاں خاندان باقی رہ سکتا ھے؟ ایں خیال است محال است)۔ آزادی و اغراض کا فروغ لازما رحمی رشتوں کو مخاصمت میں تبدیل کرکے رھتا ھے۔

تو خوب دھیان رھے کہ خاندانی نظام بس یونہی شکست و ریخت کا شکار نہیں ھورھا بلکہ یہ بذات خود مارکیٹ نظم کا نتیجہ ھے۔ جوں جوں مارکیٹ کا دائرہ پھیلتا ھے، روایتی معاشرت کی شکست و ریخت کا عمل تیز تر ھوجاتا ھے نتیجتا ہر روایتی تعلق (بشمول ‘روایتی عورت’) روایتی تحفظات سے محروم ھوکر غیر محفوظ ھونے لگتا ھے اور اسے اپنی آخری پناہ گاہ بادل ناخواستہ مارکیٹ میں تلاش کرنا پڑتی ھے۔ درحقیقت مارکیٹ کسی دوسرے نظام کے ستائے ھوئے لوگوں کو نہیں بلکہ خود اپنے پیدا کردہ ظلم کے مارے چند لوگوں کو اپنے اندر سموتی ھے اور بڑی اکثریت کو این جی اوز، پروفیشنل خیراتی اداروں اور سرمایہ دارانہ ریاست کے تھپیڑوں کے حوالے کردیتی ھے۔

اور پھر ذرا تصور کیجئے ان عورتوں کے بارے میں بھی جو یا تو کمانے لائق نہیں یا پھر بہت کم کماتی ہیں ۔۔۔۔ آخر یہ مارکیٹ نظام انکے ساتھ کیا کررھا ھے؟ ھوسکتا ھے آپ کہیں کہ وہ انشورنش کروائیں، مگر اسکے لئے تو رقم چاہئے جو کمائے بغیر ممکن نہیں، ھوسکتا ھے آپ کے ذہن میں یہ خیال مچل رھا ھو کہ انکی کفالت ریاست کرے گی مگر اس دنیا کی کتنی ریاستیں ہیں جنکے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اپنی ساری محروم آبادی کیلئے آمدن کا بندوبست کردے؟ تو سوال یہ ھے کہ یہ جو اتنی کثیر تعداد میں خواتین بے یارومددگار گھوم رہی ہیں ان کیلئے اس نظام میں کیا ھے؟ تو یہاں کوئی جدید ذھن کیوں یہ سوال نہیں پوچھ رہا کہ ‘اے ظالمو جب تمہارے پاس ان خواتین کے بندوبست کا کوئی نظام موجود نہیں تھا تو کیونکر تم نے خاندان کو تحلیل کرکے مارکیٹ نظم قائم کیا؟’ ۔۔۔۔۔ کیا یہ جدید ذھن کا کھلا تضاد نہیں کہ دینی طبقے سے تو دین پر عمل پیرا ھونے کیلئے پہلے ‘ہر مسئلے کا پکا پکایا متبادل’ فراہم کرنے کی شرط لگاتا ھے مگر خود اپنے نظام پر یہی سوال نہیں اٹھاتا؟

تو مارکیٹ جو بحرانوں کا شکار چند عورتوں کو سپورٹ کررھی ھے وہ بس یونہی نہیں کررہی، بلکہ معاشرے سے اسکی پوری پوری قیمت وصول کررہی ھے۔

پس کرنے کا کام خاندان کو مارکیٹ میں ضم کردینا نہیں (کہ یہ تو اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ھے) بلکہ مرد کی ‘درست تربیت’ پر توجہ دینا ھے تاکہ وہ اپنی ‘ذمہ داری’ کو پہچانے۔ مگر صرف اتنا ہی کافی نہیں، اس مارکیٹ نظم کو تحلیل کرنا اس تربیت سازی سے بھی زیادہ ضروری عمل ھے کہ اسکے بنا یہ تربیت کبھی عام نہ ھوسکے گی۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *