لبرل، سیکولر و متجددین کی دھری منطق

فرض کریں اگر روایتی خاندانی معاشرتی نظام کے اندر عورت پر ظلم ھوجائے تو سیکولر، لبرل اور متجددین اسے مولوی کے روایتی اسلام کا شاخسانہ قرار دینے میں ذرا بھر تامل نہیں کرتے اور تقاضا کرتے ہیں کہ تحفظ عورت کیلئے اسے آزادی ملنی چاھئے، مولوی کے اسلام نے اسے جکڑ رکھا ھے۔

اور اگر اس عورت کے ساتھ بدسلوکی (مثلاریپ) ھوجائے جو مارکیٹ میں گھوم رہی ھے اور تحقیق و اعداد و شمار بھی بتا رھے ھوں کہ اسکا تعلق اس آزاد اختلاط کے ساتھ ھے، مگر اس وقت یہ لوگ یہ نتیجہ نہیں ںکالتے کہ یہ آزاد معاشرت کا نتیجہ ھے بلکہ اسکی الٹی سیدھی تاویلیں کرنے لگتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ تقاضا کرنے لگتے ہیں کہ معاشرے میں تمام مردوں کی تربیت کرنے کی ضرورت ھے کہ وہ عورت کے وجود کو عزت کی نظر سے دیکھیں نیز ریاست اس معاملے میں سختی سے کام لے وغیرہ۔

لیکن اس موقع پر سوال پیدا ھوتاھے کہ اگر مرد کی تربیت ہی مسئلے کا حل تھا تو ان چند مردوں کی اسلامی تربیت پر کیوں نہ توجہ دی جائے جو بیوی، بیٹی، ماں اور بہن کے حقوق ادا نہیں کررھے؟ اگر اس مرد کی تربیت کرلی جائے تو کیا عورت خاندانی نظم کے اندر محفوظ نہیں ھوسکتی؟

درحقیقت عورت پر ھونے والے مظالم ایک بہانہ ہیں جس کے ذریعے عورت کی مارکیٹ سازی کے عمل کا جواز پیدا کیا جاتا ھے اور چونکہ یہ عورت کی مارکیٹ سازی انکے نزدیک مطلوب و مقصود ھے لہذا اس مقصد کو بچانے کیلئے پوری دنیا کی تربیت بھی کرنا پڑا، ریاست کو نت نئے قوانین بنانے اور مسلط کرنا پڑیں سب جائز ھے۔ اسے کہتے ہیں مقصد سے کمٹمنٹ، مولوی یہ سب تقاضے کرے تو وہ کند ذھن، یہ کریں تو عقل پرستی۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *