خدا کو کس نے پیدا کیا۔ ۔؟

10552599_1502843416618952_479119153321523721_n
سوال خ عموما اس طور پر اٹھایا جاتا ھے کہ ” اگر ھر چیز کو خدا نے وجود بخشا ھے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟”

یہ سوال ایک کیٹیگری مسٹیک (category mistake) ھے۔ تفصیل اسکی یہ کہ ھر وجود کو “ڈیفائن کرنے والی صفات” اس سے متعلق بعض ایسے سوالات کو غیر متعلق (irrelevant) کردیتی ھیں جو کسی دوسری صفات کے حامل وجود کے لئے متعلق ھوتے ھیں۔ مثلا اگر آپ کمرے میں قلم رکھ کر باھر جائیں اور واپس آنے پر اس قلم کی جگہ تبدیل پائیں تو آپ کے ذھن میں “کیسے” کا سوال آئے گا (یعنی اسکی جگہ کیسے تبدیل ھوئی)۔ لیکن اگر قلم کی جگہ آپ کا دوست کمرے میں بیٹھا ھو اور واپس آنے پر اسکی جگہ تبدیل ھوجائے تو آپ کا ذھن اس کیسے کے سوال کی طرف متوجہ نھیں ھوگا۔ چنانچہ انسان کی “متحرک بالارادہ” ھونے کی صفت نے اس سے متعلق “کیسے” کے سوال کو غیر متعلق کردیا؛ اسکے بارے میں “کیسے یھاں سے وھاں چلا گیا” کا سوال کیٹیگری مسٹیک ھے۔

انسان کے بارے میں یہ سوال کہ “اسے کس نے پیدا کیا” ایک متعلق سوال ھے کہ خود ھمارا مشاھدہ و علمی اثار یہ بتا رھے ھیں کہ انسان ھمیشہ سے موجود نھیں؛ تو اس صورت میں یہ سوال منطقی طور پر درست ھے۔ مگر خدا کو ڈیفائن کرنے والی بنیادی صفت “الصمد” (قائم بالذات ھونا) ھے۔ اس صفت کے تناظر میں “خدا کو کس نے پیدا کیا” بالکل اسی طرح غیر منطقی ھے جیسے درج بالا مثال میں انسان کی بابت کیسے کا سوال غلط تھا۔ ظاھر ھے، اگر خدا کو کسی نے پیدا کیا ھے تو وہ الصمد نھیں لھذا خدا نھیں۔ اگر کھا جائے کہ موجودہ خدا کو اس سے قبل خدا نے پیدا کیا تو اس صورت میں جسے موجودہ خدا کہا جارھا ھے وہ خدا نھیں کہ وہ الصمد نھیں (یعنی اپنے ھونے کے لئے وہ اپنے سے قبل کسی کا محتاج ھے)۔ الغرض خدا کے بارے میں یہ سوال کہ “اسے کس نے پیدا کیا” بذات خود ایک غیر منطقی سوال ھے کہ یہ خدا کی تعریف ھی کو نہ سمجھنے کی بنا پر پیدا ھوتا ھے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *