سرمایہ داری کیا ھے؟

تنویری ڈسکورس نے جس نظام زندگی کو تعمیر کیا اور فروغ دیا اسے سرمایہ داری کہتے ہیں۔ سرمایہ داری انسان کو قائم بالذات اور اسکی آزادی کے فروغ کو عقل کے بدیہی مقصد کے طور پر مان لینے کا نام ھے۔ تنویری ڈسکورس کے مطابق انسان ‘اصولا آزاد’ ھے، ان معنی میں کہ وہ اپنے اندر یہ خواہش اور صلاحیت رکھتا ھے کہ قائم بالذات (self-determined) بن جاۓ۔ لیکن عملا وہ آزاد نہیں کیونکہ اسکی آزادی کو مادی، سماجی اور قانونی ہر تین طرح کی قوتیں محدود کرتی ہیں۔ سرمایہ داری ان مادی، سماجی اور قانونی پابندیوں کے خلاف جدوجہد کا نظام ھے جو ارادہ انسانی کی متصور آزادی پر لگی ھوئی ہیں یا لگائ گئی ہیں۔

مثلا مادی سطح پر آج انسان نظام شمسی سے باہر نہیں جا سکتا، زلزلے یا طوفان کو نہیں روک سکتا، بوڑھا ھوجاتا ھے، موت کا شکار ھوجاتا ھے، ماں باپ کے بغیر پیدا نہیں ھوسکتا وغیرہ۔ انسانی ارادے کی تکمیل میں حائل ان مادی رکاوٹوں کو کم کرنے کیلئے سرمایہ داری نے جو علمی نظام وضع کیا اسے ٹیکنو سائنسز (techno-sciences) کہتے ہیں جنکا مقصد کائنات پر ارادہ انسانی کے تسلط کو ممکن بنانے کی پیہم جدوجہد کرنا ھے۔ یہ تنویری علمیت اس جنون کو پروان چڑھاتی ھے کہ انسان کو اسکے ارادے سے ماوراء ہر کائناتی قوت سے آزاد کرانا ممکن ھے۔

اسی طرح سماجی سطح پر بھی وہ رکاوٹوں کا شکار ھے جسکی سب سے بڑی شکل روایتی تعلقات کے تانے بانے ہیں۔ تنویری فکر کے خیال میں ان معاشرتی حدبندیوں کی وجہ یہ ھے کہ یہ معاشرے حصول آزادی کے سواء کسی دوسرے مقصد (مثلا حصول رضاۓ الہی) کیلئے قائم کئے جاتے ہیں۔ لہذا اسکا حل انہوں نے مارکیٹ یا سول سوسائٹی کی صورت میں پیش کیا جہاں تعلقات توڑنے اور جوڑنے کی بنیاد فرد کی ذاتی اغراض کا حصول ھوتا ھے اور ان تعلقات کو توڑنے کے باوجود اسکی معاشرتی حیثیت پر کوئ فرق نہیں پڑتا۔ لبرل تنویری مفکرین کے نزدیک سول سوسائٹی وہ فریم ورک فراہم کرتی جسکے اندر فرد جو چاھنا چاھے چاہ سکتا اور اسے حاصل کرسکتا ھے بشرطیکہ دوسرے کے حق خود ارادیت کو چیلنج نہ کرے۔ ایسا معاشرتی نظم کیسے قائم ھوتا ھے نیز اسے کیسے ریگولیٹ کیا جانا چاہئے سوشل سائنسز اسی کی حکمت عملی وضع کرتی ہیں۔

اسی طرح فرد قانونی حد بندیوں کا شکار بھی ھے، مثلا یورپ و امریکہ میں دوسری شادی نہیں کرسکتا، کیوبا میں زمین نہیں خرید سکتا، پاکستان یا سعودی عرب میں سر عام بدکاری نہیں کرسکتا وغیرہ۔ اس مسئلے کا حل لبرل مفکرین کے نزدیک ھیومن رائٹس کا پابند جمہوری نظام ھے جہاں قانون کا مقصد تحفظ آزادی کے سواء اور کچھ نہیں ھونا چاہئے۔ انکے نزدیک ریاست کو ایسے تمام عقائد، اداروں، روایات و تعلقات کا قلع قمع کردینا چاھئے جو فرد کی آزادی چاھنے (نفس عمارہ کا بندہ بننے) کی اس خواہش میں کمی کا باعث بنتے ھوں۔

(لبرل) سرمایہ داری ان تین قسم کی ادارتی صف بندیوں (سرمایہ دارانہ علمیت یعنی سائنس و سوشل سائنسز، سول و مارکیٹ سوسائٹی اور جمہوری ریاستی نظم) کی تنظیم و تشکیل کا نام ھے۔ چونکہ آزادی کی عملی تجسیم و مجرد شکل سرمایہ ھے (کہ سرمایہ انسان کو اسکی ہرچاھت حاصل کرنے کا مکلف بناتا ھے)، لہذا سرمایہ دارانہ تنظیمات کا مقصود سرمائے میں لامحدود اضافے کو ممکن بنانا ھوتا ھے، ہر وہ ترتیب خواہشات جو سرماۓ میں اضافے کا باعث نہ بنے سرمایہ دارانہ نظام میں غیر معقول سمجھی جاتی ھے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *