علم منطق اصول فکر کا بیان

1

پچھلی قسط میں ہم نے منطق سے متعلق چند اصطلاحات کو دیکھا تھا۔ اب ہم مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہیں اور اصولِ فکرکو سمجھ لیتے ہیں۔ منطق کے تعارف میں ہم سمجھ چکے ہیں کہ اس میں فکر کے ضابطے اور قانون کو سمجھا جاتا ہے۔ یعنی وہ قوانین جن کے بغیرفکر میں درستی ممکن نہیں ہوتی یہ منطق کا موضوع ہے۔ ایسے قوانین بہت سارے ہیں لیکن بنیادی طور پر چار ایسے قوانین ہیں جو اصول ہیں، اور باقی قوانین جزو یا فرع ہیں۔ یہ چار بنیادی اصولِ فکراس طرح ہیں:-
۱: اصولِ عینیت
۲: اصولِ تباین (اجتماعِ نقیضین)
۳: اصولِ خارج الاوسط
۴: اصولِ کافی وجہ
۱۔ اصولِ عینیت:
اصولِ عینیت یہ کہتا ہے کہ جو چیز جو ہے وہ وہی ہے۔ یعنی انسان ہے تو انسان ہی ہے۔ درخت ہے تودرخت ہی ہے۔ بکری ہے تو بکری ہی ہے۔ عرب ہے توعرب ہی ہے۔ اس اصول کو اس طرح پیش کرتے ہیں:
“الف اگر الف ہے تو الف ہی ہے۔”
اس اصول کا مقصد یہ ہے کہ بحث سے پہلے اگرکسی لفظ کے معنی متعین کرلیے جائیں تو تمام بحث میں وہ لفظ جہاں بھی استعمال ہوگا اس سے ہم ہمیشہ وہی معنی مراد لیں گے۔ اس کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ یعنی اگرعرب سے مراد سعودیہ عرب ہے تو ہمیشہ عرب سے مراد سعودیہ عرب لیا جائے گا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ آپ کبھی سعودیہ مراد لیں، کبھی عرب امارات یا مصر اور یمن مراد لیں۔ اگر ایسا ہوا تو فکر میں خلجان پیدا ہوگا اور درست نتائج کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔
مثلاً بحث میں اگر لفظ “سائنس” کا مطلب قوانینِ قدرت متعین کرلیا گیا ہے تو اس سے ہر جگہ یہی معنی مراد لیے جائیں گے۔ اگر سائنس کے مطابق سین لام ہے لیکن کوئی یہ کہے کہ سائنس کے مطابق سین قاف ہے اور اعتراض پر وہ یہ کہے سائنس سے مراد لغوی طورپر “علم” ہے تو اس کی بات قابلِ قبول نہ ہوگی۔ کیونکہ سائنس کے جو معنی بحث میں متعین کیے گئے ہیں اس کے مطابق وہی معنی مراد لیے جائیں گے اور استدلال درست نہیں مانا جائے گا۔ اسی طرح ایک شخص بحث میں کبھی شراب سے پینے والی کوئی شئے مراد لیتا ہو اور کبھی خمر مراد لے تو بھی بحث کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، یہاں تک کہ شراب کے معنی متعین کر لیے جائیں۔ اس سے ایک اور نکتہ یہ بھی واضح ہوا کہ علمِ منطق لفظوں کا محتاج نہیں، بلکہ ان سے جومعنی مراد لیے گئے ہیں انہی کا اعتبار ہوگا۔ چاہے وہ معنی خلافِ واقعہ ہوں۔ مثلاً کوئی اگر بندر کا نام شیر رکھ لے تو بھی کوئی حرج نہیں ہوگا، لیکن جب ایک لفظ کسی خاص معنی کے لیے متعین ہوگیا تو مکمل بحث میں اس کی پابندی ضروری ہے۔
۲۔ اصولِ تباین:
اصولِ تباین یہ کہتا ہے کہ اجتماعِ نقیضین محال ہے۔ ایک چیز ایک وقت میں اس چیز کی نقیض کبھی نہیں ہوسکتی۔ یعنی ایک چیز ایک وقت میں دو متناقض صفات کی حامل نہیں ہوگی۔ کوئی جاندار ایک وقت میں انسان اور غیر انسان نہیں ہوسکتا۔ ایک انسان ایک وقت میں عالم اور غیر عالم نہیں ہوسکتا۔ پانی ایک وقت میں مائع اور غیر مائع نہیں ہوسکتا۔ اس اصول کو اس طرح پیش کرتے ہیں:
“الف اگر الف ہے تو وہ غیر الف نہیں ہے۔”
دو متناقض باتیں یا قضیے ایک وقت میں درست نہیں ہوسکتے۔ یعنی “پانی مائع ہے” اور “پانی غیرمائع ہے” یہ دونوں قضیے درست نہیں ہوسکتے۔ زید عالم ہے، اور، زید غیر عالم ہے۔ اگر پہلا جملہ درست ہے تو دوسرا غلط ہوگا، اور دوسرا درست ہے تو پہلا غلط قرار پائے گا۔
۳۔ اصولِ خارج الاوسط:
اصولِ خارج الاوسط یہ کہتا ہے کہ ایک چیز یا تو ہے، یا نہیں ہے۔ درمیانی صورت ممکن نہیں ہے۔ اس اصول کواس طرح پیش کرتے ہیں:
“الف یا تو الف ہے یا غیر الف ہے۔”
یعنی ایک چیز کے بارے میں دو متناقض صفات میں ہی سے کوئی ایک ہوگی۔ کوئی جاندار یا تو انسان ہوسکتا ہے یا غیر انسان ہوسکتا ہے۔ درمیانی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ اس جاندار کچھ انسان ہے اور کچھ غیر انسان ہے۔ واضح رہے کہ اصولِ تباین یہ کہتا ہے کہ دونوں متناقض صفات درست نہیں ہوسکتیں۔ اور خارج الاوسط کا اصول یہ کہتا ہے کہ دونوں میں سے ایک لازماً درست ہوگی۔ زید عالم ہے، زید غیرعالم ہے، یہ دونوں باتیں ایک وقت میں درست نہیں ہوسکتیں۔ یہ اصول تباین ہے۔ اور خارج الاوسط یہ ہے کہ دونوں درست نہیں لیکن ایک لازماً درست ہوگی۔
نوٹ: ضد اور نقیض میں فرق ہے۔ ضدین کا اجتماع ممکن ہے لیکن نقیضین کا اجتماع ممکن نہیں ہے۔ مثالوں سے یہ بات واضح ہے۔ مزید ایک مثال لیجئے، زید عیسائی ہے، اور، زید ہندو ہے۔ یہ ضدین ہیں۔ یعنی جو ہندو ہے وہ عیسائی نہیں ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ زید ان دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہو۔ البتہ زید عیسائی ہے اور زید غیر عیسائی ہے۔ یہ نقیضین ہیں۔ زید ان دو میں لازماً ایک ہوگا۔
۴۔ اصولِ کافی وجہ:
اصولِ کافی وجہ یہ کہتا ہے کہ ایک چیز ہے تو دوسری ہے۔ اس اصول کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے:
“اگرالف ہے تو ب ہے۔”
یا
“ہرواقعہ کے لیے کوئی وضاحت ضروری ہے کہ ایسا کیوں ہے؟”
یعنی کوئی بھی چیز جو کہ موجود ہے یا کوئی چیز جو کہ سچ ہے اس کے لیے کوئی کافی وجہ ہے۔ انسان کے صانعِ عالم سے لے کر مجموعی طور پر زندگی کے سارے سوالات اسی بنیادی اصول پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس اصول کو “اصولِ استدلال” بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر ایسا ہے تو ایسا “کیوں” ہے؟ روشنی کیوں ہے؟ ہوا کیوں نہیں ہے؟ شور کیوں ہے؟ سکون کیوں نہیں ہے وغیرہ۔ اور جتنی بھی چیزیں ہمیں رونما ہوتی نظر آتی ہیں ان میں ہر ایک کی “کافی وجہ” موجود ہے۔ منطق میں اسی سے ملتا جلتا نظریہ اس طرح بھی پیش کیا جاتا ہے مثلاً عدم سے عدم ہی حاصل ہوتا ہے۔
اس طرح ان چاروں اصولوں کو مختصر طور پر یوں پیش کیا جاتا ہے:
۱۔ الف اگر الف ہے تو الف ہی ہے۔
۲۔ الف اگر الف ہے تو وہ غیر الف نہیں ہے۔
۳۔ الف یا تو الف ہے یا غیر الف ہے۔
۴۔ اگرالف ہے تو ب ہے۔
بقیہ اگلی قسط میں ان شاء اللہ۔
مزمل شیخ بسمل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *