”جمہوری سیکولر ریاست فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی” (2) ۔۔۔۔۔۔ سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں

ابتداء یہ واضح کیا گیا کہ جمہوری سیکولر ریاستیں انسانی تاریخ کی بدترین جابرانہ ریاستوں کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ یہاں جمہوری سیکولر ریاست کی فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنے کی علمی بنیادوں کی وضاحت کی جاتی ھے۔

ھیومن رائٹس (آزادی کے) فریم ورک میں ‘اخلاق’ (قدر) کا سوال ہی غیر متعلقہ ھوجاتا ھے، یہاں صرف ‘قانون’ ھوتا ھے، لہذا ھیومن رائٹس فریم ورک فرد کی ساری زندگی (بشمول ذاتی و اجتماعی) کو قانون کا موضوع (subject) بنا کر ریاست کی قانونی مداخلت کے شکنجے کا شکار بنا دیتا ھے۔ ایسا اس لئے کہ ھیومن رائٹس فریم ورک میں ‘قدر’ (اھم و غیر اھم) کا سوال ہی غیر اھم و لایعنی ھوتا ھے، یہاں اصولا اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایک فرد اپنے حق آزادی (اختیار) کو استعمال کرکے کیا چاھتا یا چاھنا چاھتا ھے۔ یہاں خواھشات کی تمام تر ترجیحات اصولا مساوی اقداری حیثیت رکھتی ہیں (نماز ادا کرنا، غریب کی مدد کرنا، موسیقی سننا، تمام عمر بطخوں کی فلم بناتے رھنا، گھاس کے پتے گننا، بدکاری کرنا وغیرہ سب مساوی اقداری حیثیت کی حامل ہیں)۔ چنانچہ اصولا یہاں کوئی خواہش اخلاقیات کا معاملہ نہیں رھتی، بلکہ ہر معاملہ ‘حقوق’ کا معاملہ ھوتا ھے جسے بذریعہ قانون ریگولیٹ کیا جاتا ھے۔ اگر ریاست کو معلوم ھوجائے کہ فلاں خواہش یا ترجیح ‘اصول آزادی’ کے خلاف ھے، یہ فورا اسے قانون کے شکنجے میں لے آتی ھے۔

پس ذاتی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ جسے ایک مذہبی ریاست اپنی علمیت کی بنیاد پر اخلاق کا دائرہ سمجھ کر اس میں مداخلت نہیں کرتی، ذاتی زندگی کا وہ دائرہ بھی سیکولر ریاست کی قانونی گرفت سے باھر نہیں رھتا (انسانی تاریخ میں اسکی مثال موجود نہیں کہ کسی ریاست نے یہ قانون بنایا ھو کہ فرد کتنے بچے پیدا کرے، انہیں سکول بھیجے، اپنی بیوی کے ساتھ بیڈ روم میں کیسا رویہ اختیا رکرے وغیرہ)۔ یہی وجہ ھے کہ ایک اسلامی ریاست کے ماتحت زندگی گزارنے والے غیر مسلمین کیلئے سینکڑوں سال بعد بھی اپنی مذہبی شناخت قائم رکھنا ممکن ھوتا ھے مگر جمہوری سیکولر ریاست افراد پر ھیومن رائٹس کا ایک ایسا جابرانہ قانونی فریم ورک مسلط کرتی ھے جسکے بعد ان کی تمام تر روایتی شناختیں تحلیل ھوکر لبرل سرمایہ دارانہ انفرادیت (ھیومن) میں گم ھوجاتی ہیں۔ سب دیکھ سکتے ہیں کہ پختہ جمہوری ریاستوں میں تمام مذہبی شناختیں لایعنی و مہمل بن کر رہ گئی ہیں۔

یہ ان مزعومہ مسلم مفکرین و مذہبی سکالرز کیلئے مقام افسوس ھے جو اس بنیاد پر جمہوری ریاست کی حمایت کرتے ہیں گویا یہ کوئی نیوٹرل (غیرجانبدار) ریاست ھوتی ھے، لہذا انکے خیال میں یہاں فرد کو ‘خدائی پلان’ کے مطابق ‘کفروایمان’ اختیار کرنے کا مساوی موقع میسر ھوتا ھے (اور پھر قرآنی آیت فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر سے اپنے اس بے معنی تجزئیے کو استدلال سے مزین کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں)۔ ان بیچاروں کو مذہبی ریاست تو متعصب دکھائی دیتی ھے مگر سیکولر ریاست کا کھلا ھوا علمی و عملی جبر انکی آنکھوں سے اوجھل رھتا ھے۔ اسکی وجہ صرف ایک ھے، یہ متجددین (جو اجتہاد کے نام پر دین پر طبع آزمائی کا ذوق رکھتے ہیں) جدید (جاہلی) علمی ڈسکورس سے ہی ناواقف ہیں۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *