کیا اختلافات صرف مذہبی لوگوں کا شیوہ ہیں ۔ ۔ ۔

نظام کی تسخیری قوت اور سائنسی علمیت پر اندھے اعتماد پر مبنی تصورات ۔۔۔

عام بلکہ ‘جدید تعلیم یافتہ’ لوگوں کا خیال یہ ھوتا ھے کہ شاید اختلافات مذہبی لوگوں کا شیوا ھے، یہ سائنس دان تو گویا متفق الخیال ھی ھوتے ہیں اور سب کے منہ سے ایک ہی پالیسی کی بات نکلتی ھوگی نیز یہ اپنے نظریات کو مسلط کرنے کیلئے کبھی سیاسی قوت حاصل کرنے اور مخالفین کو دبانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ چونکہ انکے خیال میں ان سائنس دانوں کے پاس حق معلوم و متعین کرنے کا کوئ زبردست پیمانہ و طریقہ موجود ھوتا ھے لہذا پورے ملک و قوم کے فیصلے انکے محفوظ ھاتھوں میں تھما دینا ہی عقل کا تقاضا ھے۔ درحقیقت یہ تمام تصورات سائنسی علم کی ماھیت اور اس کے طریقہ کار سے ناواقفیت اور اس پر اندھے اعتماد کا نتیجہ ہیں۔

اس اعتماد کی بنا پر موجودہ نظام میں کروڑوں اربوں لوگوں کی قسمت کا فیصلہ سوشل سائنسز کے ماہرین پر چھوڑ دیا جاتا ھے اس امید پر کہ یہ انسانیت کی ڈوبتی نیا پار لگا کر ہی رہیں گے۔ جبکہ حقیقت یہ ھے کہ یہ ماہرین کبھی کسی معاشرتی امر کی توجیہہ و تفہیم اور اس کے حل پر متحد الخیال نہیں ھوتے، اتنا ہی نہیں بلکہ انکے درمیان اس معاملے پر اتفاق ناممکن ھوتا ھے جسکی وجہ یہ ھے انکے مختلف فرقوں (جنہیں یہ ‘سکول آف تھاٹس’ کہتے ھیں) کے بنیادی مفروضات ہی میں اختلاف ھوتا ھے۔ مثلا ماہرین علم معاشیات کے درمیان اس امر پر کوئ اتقاف نہیں ھوپاتا کہ مارکیٹ نظم کساد بازاری کا شکار کیوں رھتا ھے اور یہ بزنس سائیکلز کیوں آتے ھیں۔ چنانچہ کلاسیکل، کنیزین، نیوکلاسیکل و نیو کنیزین، رئیل بزنس سائیکل تھیورسٹ، مارکسسٹ، پوسٹ کینزین وغیرھم ہر کسی کی اس بارے میں اپنی ایک راۓ ھے، چونکہ ان میں سے ہر ایک کے مفروضات دوسرے سے مختلف ہیں لہذا یہ کبھی متفق الرائے نہیں ھوسکتے، نتیجتا ان میں اس امر پر بھی کوئ اتفاق نہیں ھوپاتا کہ اس کساد بازاری کا درست حل کیا ھے۔ پالیسی سازاداروں پر جسکا سیاسی زور چلتا ھے وہ اپنے نظرئیے سے ھم آھنگ پالیسیاں معیشت پر مسلط کرکے کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو اپنے نظریات کی سچائ ثابت کرنے کیلئے تختہ مشق بنادیتا ھے۔ اگر تجربے کے نتیجے میں نظرئیے کے حق میں کوئی دلیل ھاتھ آگئی (جو نکال لانا یہاں کوئی مشکل امر نہیں ھوتا) تو فبہا، بصورت دیگر کوئی اور تھیوری چلا کر دیکھ لیتے ہیں۔

مگر ان کروڑوں انسانوں کا کیا جاۓ جنہیں اس تجربہ گاہ کے ناکام نتائج بھگتنا پڑتے ھیں؟ اول تو یہ سوال کوئی اٹھاتا ہی نہیں، اسی لئے یہ ماہرین کبھی عدل کے کٹہرے میں بلاۓ ہی نہیں جاتے۔ کیوں؟ اس مفروضے پر کہ یہ پوری علمی دیانت کے ساتھ ‘انسانیت کی بھلائی’ پر مامور ہیں لہذا ان سے سوال کرنا علم کی توہین ھے، انکی غلطیوں کو ‘اجتہادی غلطی’ سمجھو کہ انہیں کم از کم علم کی خدمت کرنے کا اجر ضرور ملتا ھے (اور اس اجر کا زیادہ اثر ان ماہرین کی ‘جیبوں’ پر پڑتا ھے جو ان تجربات کے دوران خاصی بھاری ھوجاتی ھیں)۔ ان کروڑوں انسانوں کے سوال کو بس نظر انداز کردیا جاتا ھے اس امیدپر کہ اگلا تجربہ کامیاب ھوگا (اگرچہ یہ پہلے سے معلوم ھوتا ھے کہ اسکے درست ھونے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں) اور اس سے سب کو فائدہ پہنچنے کی امید ھے (اور یہ نہ ختم ھونے والا سلسلہ یوں چلتا رھتا ھے)۔

دیکھئے یہاں کوئی مکمل اور حتمی متبادل نہیں مانگتا، نہ ہی ان ماہرین سے کہتا ھے کہ پہلے تم ثابت کرو کہ جو تم کہہ رھے ھو وہ درست ھے پھر ھم تمہاری بات ماننے پر غور کریں گے، عمل کرنا اور تمہیں فیصلے کرنے کی قوت دے دینا تو بعد کی بات ھے۔ اس کے برعکس یہاں چند امیدوں (وہ بھی ایسی جن پر سینکڑوں سال سے پانی پھر رھا ھے) کی بنیاد پر کروڑوں اربوں انسانوں کا مستقبل نہایت اطمینان کے ساتھ داؤ پر لگا دیا جاتا ھے۔

ذرا سوچئے کہ ان علوم کے اس قدر بنیادی اختلافات، تضادات اور کمزوریوں کے باوجود اس نظام میں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسانوں کی زندگیوں کے فیصلے ان ماہرین کی حوالے کیوں کردئیے گئے ہیں اور لوگ بھی بالکل مطمئن ھیں؟ اسے کہتے ہیں ‘نظام کی تسخیری قوت’ اور ‘ڈسکورس کا جبر’، جو لوگوں کا نظام پر ایمان بناتا اور قائم رکھتا ھے۔ جو لوگ نظام کی بحث سے سہو نظر کرتے یا اسے غیر متعلقہ سمجھتے ہیں انہیں اسکی تسخیری قوت کا ادراک ہی نہیں۔ ایسے لوگ اپنی قلت بینائی کو چیزوں کے عدم وجود کی دلیل سمجھتے رھتے ہیں اور جو ان چیزوں کے وجود کا دعوی کرے انہیں یہ احمق سمجھتے رھتے ہیں۔ جبکہ فی الحقیقت یہ خود احمقوں کی دنیا میں بستے ھیں۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *