رینڈ کارپوریشن رپورٹ اور مسلمانوں کے طبقات

10646790_1530677157168911_3490379303125719028_n

امریکی تھنک ٹینک رينڈ كارپوريشن(RAND) کا اپنی تحقیقى رپورٹوں‘ كے ذريعے امريكى پاليسى كى تشكيل ميں بہت بڑا كردار ہے، 2003 میں اسکی مشہور سکالر شیرل برنارڈ نے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا جو اب بھی رینڈ کارپوریشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کا عنوان ہے
CIVIL DEMOCRATIC ISLAM- PARTNERS, RESOURCES & STRATEGIES
يعنى ”سول اور جمہورى اسلام: شركاے كار، وسائل اور حكمت ِعملى“ ہے ۔
اس میں اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے بارے میں امريكى پاليسى سازوں كے لئے رہنما ہدايات وسفارشات پیش کی گئیں. اس رپورٹ کے منتخب حصوں کا اُردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے.
مسلمانوں کی چار قسمیں یا گروہ:-
بنیاد پرست (Fundamentalist):-
یہ وہ گروہ ہے جو جہاد کو اسلام کے غلبہ کی حکمت عملی کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں یہ گروہ جمہوریت اور تمام مغربی افکار کا منکر ہے اور اسلامی نظام کو تمام نظاموں پر ترجیح دیتا ہے. یہ مذہبى رياست كا قيام چاہتا ہے جہاں وہ اسلامى قانون اور اخلاقيات كے متعلق اپنے انتہاپسندانہ نظريات كو نافذ كرسكے- يہ مغرب کا بالعموم اور امريكہ کا بالخصوص دشمن ہيں- اس کی دو قسمیں ہیں : ایک اسپریچوَل بنیاد پرست (Scriptural Fundamentalist) یہ گروہ اسی طریقہ کو اختیار کرتا ہے جو اسلامی مآخذ کے مطابق ہے اور جو خودکش حملہ کو صحیح نہیں قرار دیتا۔ اور دوسرا گروہ ریڈیکل بنیاد پرست (Radical Fundamentalist) یہ گروہ سب سے خطرناک گروہ ہے جو خودکش حملوں کو جائز سمجھتا ہے اس گروہ میں طالبان، القاعدۃ، حماس شامل ہیں
قدامت پسند (Traditionalist):-
یہ گروہ اسلامی ثقافت رسم و رواج کی بڑی شدومد سے پاسداری کرتا ہے یہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد اور بڑا گروہ ہے۔ یہ علماء، مدارس اور دیندار لوگوں پر مشتمل ہے۔
سیکولرسٹ (Secularist):-
یہ نجی طور پر اسلام پر عمل پیرا ہوتا ہے، مگر دیگر معاملاتِ زندگی میں مذہب کی مداخلت کا قائل نہیں.
موڈرنسٹ (Mederist):-
یہ گروہ اسلام کی جدید تعمیر پیش کرتا ہے اور اسلام کو ایک لبرل مذہب تصور کرتا ہے، یہ اسلام کی پرانی تعلیمات کے خلاف اور زمانہ سے ہم آہنگ اور جدید اسلام کے لیے کوشاں ہے.

سفارشات :-
“سیکولرز اور جديديت پسندوں كى امداد كرنا امريكہ كو مسلم دنيا كے متعلق اپنی خارجہ پاليسى كا اہم جز بنانا چاہیے- انکی تعلیمى اور ثقافتى سرگرميوں كے متعلق امداد فراہم كرنا ہمارى ترجيح ہونى چاہيے، انہيں وسائل كى ضرورت ہو تو فراہم كئے جائيں- جبكہ انتہا پسندوں كے لئے وسائل كا حصول ناممكن بنا ديا جائے. ان گروہوں كو توڑ پهوڑ كر ان كى جگہ اعتدال پسندوں كو كنٹرول دياجائے- مدارس اور مساجد كى اصلاحات پر خصوصى توجہ دى جائے- مدارس كے نصابِ تعليم كو جديد تقاضوں كے مطابق ڈهالا جائے- اعلىٰ تعليم كے ايسے بورڈ قائم كئے جائيں جو سركارى اور غير سركارى تعلیمى اداروں كے نصاب كى مانيٹرنگ كريں اور ضرورى ہو تو اس پر نظرثانى كريں- “

حکمت عملی، تجاویز اور لائحہ عمل:-
رپورٹ میں جديديت پسند اور سيكولر مسلمانوں کو مغرب كى اقدار اور پاليسيوں كے ذ ہنى طور پر بے حد قريب قرار دیا گیا اور جو حكمت ِعملى تجويز كى گئى ہے، اس كا اوّلين نقطہ ہے:
“Support the modernist first.”
يعنى ”سب سے پہلے جديديت پسندوں كى امداد كرو-“ اور امداد كے درج ذیل طریقے بتائے گئے :
* اسلام کی جدید تعبیر کرنے والے modernist علماء کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک بھرپور رسائی دی جائے۔
* جديد ذہن كے مالك مسلمان سكالرز كى نشاندہى كريں وہ ويب سائٹ پر روزمرہ زندگى كے مسائل كے حل بيان كريں اور اسلامى قانون كى جديد تشريحات پيش كريں-“
*”ان كے تصنيفى كاموں كو شائع كركے سستے داموں فروخت كريں-
* ان كى حوصلہ افزائى كريں كہ عوام اور بالخصوصى نوجوانوں كے لئے لكھیں-
* ان كے نظريات كو اسلامى ممالك كے تعليمى نصاب ميں شامل كرائيں-
* ان كوپبلك پليٹ فارم مہيا كريں-
* بنيادى مذہبى معاملات كے متعلق ان كى تعبيرات كو بنياد پرستوں كے مقابلے ميں عوام ميں متعارف كروائيں-
* مسلمان نوجوانوں كے سامنے ’سيكولر ازم‘ اور ’ماڈرن ازم‘ كو اسلام كے مقابلے ميں ايك متبادل ثقافت اور نظريہ كے طور پر پيش كريں-
* مسلمان ممالك كے ذرائع ابلاغ اور نصاب ميں اسلام سے پہلے كى غيرمسلم تاريخ كے متعلق زيادہ سے زيادہ آگاہى اور رغبت پيدا كريں-
* غير سركارى اداروں NGOs كو آگے لانے ميں بهرپور تعاون كريں-“
*” سيكولر ثقافتى اداروں اور پروگراموں كى بهرپور حوصلہ افزائى كريں-

دوسرى اہم حكمت ِعملى :-
“Support the traditionalists agaist the fundamentalists.”
يعنى: ”بنياد پرستوں كے خلاف روايت پسندوں (مساجد مدارس سے منسلک علماء و عام دیندار طبقہ) كى پيٹھ ٹهونكيں-“ ، روايت پسندوں اور بنياد پرستوں كے درميان اتحاد كى حوصلہ شكنى كريں- یہ کبھی بھی بنیاد پرستوں کے ساتھ مل کر ہمارے لیے خطرے کا مؤجب بن سکتے ہیں اس لیے بنياد پرستوں كے متشددانہ طرزِ عمل كے خلاف روايت پسندوں كى تنقيد كو بڑها چڑها كر بيان كريں اور روايت پسندوں اور بنياد پرستوں كے درميان اختلافات كو ہوا ديں-
* بنياد پرستوں پر پورى قوت سے ضرب لگائيں، ان كى اسلامى اور نظرياتى بنيادوں كے كمزور پہلووٴں كو شدت سے نشانہ بنائيں، ان كے نظريات كو اس طرح بيان كريں كہ نہ تو وہ نوجوان طبقہ، نہ ہى روايتى عوام الناس كے لئے باعث ِكشش يا باعث ِتسكین ہوں- ان كى بدعنوانى، بربريت، جہالت، تعصب، عدم روادارى اور اسلام كے اُصولوں كے انطباق ميں غلطیوں كى نشاندہى بار بار كريں اور يہ باور كرائيں كہ وہ حكومت اور قيادت كے اہل نہيں ہيں-

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *