قرآن کی فصاحت اور بلاغت پر ایک اعتراض

3
ایک طرف تو قرآن کی فصاحت و بلاغت کو معجزہ قرار دیا جاتا ہے، کلام کے بلیغ ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اس کلام میں جو پیغام ہے وہ بالکل واضح طور پر مخاطب تک پہنچ جائے جسے مزید کسی “وضاحت” اور “وکالت” کی ضرورت پیش نہ آئے، لیکن یہ کیسا “کلام الہی” ہے، جو انسانی وضاحت اور وکالت کے بغیر سمجھ میں ہی نہیں آتا۔

جواب :
قرآن کریم واقعی فصیح و بلیغ ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ آپ یہ چاہتے ہیں عربی جانے بغیر قرآن آپ کی سمجھ میں آجائے اور اگر ترجمہ کرنا پڑے تو وہ آپ کی مرضی کا ہو. یقین مانو قصور قرآن کریم کی فصیح و بلیغ زبان و بیان میں نہیں بلکہ آپ کی کم فہمی اور ناقص علم کا ہے. یہ ایسے ہی ہے کہ چٹا ان پڑه شخص کہے کہ اسے چونکہ ایٹم کی ساخت سمجھ نہیں آتی اس لیے یہ ساخت ہوتی ہی نہیں. دوسرا بہت بڑا مسئلہ آپ لوگوں کا یہ ہے کہ آپ نے اپنی ذہن سازی پہلے سے کرلی ہوتی ہے اور آپ سوال علم حاصل کرنے کے لئے نہیں کرتے بلکہ تنقید و اعتراض کے لیے کرتے ہیں. اس سے ہوتا یہ ہے کہ جواب جتنا بهی مدلل ہو آپ کی سمجھ میں آ ہی نہیں سکت

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *