قصور وار کون

10712701_1549524288617531_7213860409801259586_n
ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سی خامیاں ان مسجد کے مولوی حضرات میں موجود ہے اور بہت سی جگہوں پر مسجد کا ممبر بجائے اصلاح کے تفرقہ اور فضول بحثوں میں استعمال ہورہا ہے۔ اس وجہ سے ہمارے بہت سے پڑھے لکھے لوگ (سب) علماء سے بیزار نظر آتے ہیں۔

میرے خیال میں اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں اور مسئلے کی تحت تک پہنچنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں یہ تحقیق کرنا ہوگی کہ جن لوگوں کو ہم مولوی کہہ رہے ہیں کیا وہ حقیقت میں عالم ہیں بھی ۔؟
حدیث میں آتا ہے العلماء ورثۃ الانبیاء ۔ علما انبیا کے وارث ہیں
میں سمجھتا ہوں کہ جو انبیا کے حقیقی وارث ہیں وہ کرپٹ نہیں ہوسکتے
اور جہاں کرپشن ہوئی وہاں حقیقت میں علم کو منبر تک پہنچنے ہی نہیں دیا گیا ۔
منبر رسول جب نااہل لوگوں کے حوالے کردیا گیا، تو پھر وہ ان مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوا جن کے لیے نہیں ہونا چاہیے تھا ، لازم ہے اس کے ذمہ دار علما اور دینی مدارس قطعا نہیں.

پھر ذمہ دار کون ہے ؟
مساجد میں محض چندہ کی باتوں، کافر کافر کے کھیل، فرقہ پرستی کی باتوں، کرپشن، غیر ضروری مسائل پر تقریروں کے ذمہ دار اگر علما و مدارس بھی نہیں تو پھر کون ذمہ دار ہے؟
اس کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ان مولویوں کا انتخاب کون کرتا ہے ؟
کون یہ طے کرتا ہے کہ اس منبر پر کون بیٹھے گا ؟
ہم میں سے ہر بندہ جانتا ہے کہ یہ انتخاب اس علاقے کی مسجد کے وہ ریٹائرڈ سرکاری بابو کرتے ہیں ، جنکو سرکاری دفتروں سے یہ کہہ کر فارغ کردیا جاتا ہے کہ آپ اب ایکسپائر ہوگئے اور مزید کام کے نہیں رہے ، وہ پھر مسجد کی کمیٹیوں کی صدارت پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔
ہمارے ایک دوست کے مطابق انکے علاقہ کی ایک مسجد میں امام وخطیب کے لیے تین مہینے اماموں کے انٹرویو ہوتے رہے ۔ پانچ چھے ریٹائرڈ حضرات بیٹھ کر ایک امام کو بلاتے، دوسرے کو بلاتے، تین مہینے بعد آخر میں امامت و خطابت کے لیے ایک بائیس سال کے لڑکے کا انتخاب کیا گیا اور وجہ انتخاب یہ بتائی گئی کہ اس کی آواز بہت اچھی ہے ۔
اب ہمیں اس نوعمر سے کیا توقع رکھنی چاہیے کہ جب وہ ممبر پر بیٹھے گا تو کیا گفتگو کرے گا ؟
ہمارے لوگوں کا معیار انتخاب ہی یہی ہے کہ انہیں صرف اچھی آواز سننی ہے،
انہیں وہ مولوی چاہیے جو نعتیں اچھی پڑھ سکتا ہوں، تھوڑے سر لگا سکتا ہو ۔ ۔ ۔
جب یہ اچھے سر لگانے والے گویے مولوی بن کر منبر پر بیٹھیں گے تو پھر منبر و محراب کا تقدس اسی طرح ہی پامال ہوگا جس طرح ہمارے گلی محلے کی مسجد میں ہوتا نظر آتا ہے۔۔۔!
اسکے علاوہ جس طرح گلى گلى جعلى يونيورسٹیاں ،سكول، كالج ،نرسريز اور آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ کھلے ہوئے ہيں اسی طرح گلی محلوں میں کچھ ایسی مساجد بھی ہیں جہاں مسجد کے ساتھ مدرسہ کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے دو تین ہزار تنخواہ پر ایک مولوی نما آدمی کو بٹھا دیا جاتا ہے اور اس بات کی تحقیق کوئی نہیں کرتا کہ آیا یہ بندہ مکمل حافظ اور عالم بھی ہے؟ کسی اچھے مدرسے سے فارغ التحصیل بھی ہے؟ اسکا کریکٹر کیسا ہے؟ کہیں جرائم پیشہ تو نہیں؟ کہاں سے تعلق رکھتا ہے؟ کدھر سے آیا ہے؟۔
مسجد کمیٹی والوں کو چار پانچ ہزار میں ایک داڑھی والا آدمی چاہیے ہوتا ہے جو کچھ صورتیں اچھے لہجے میں پڑھ سکے اور اس بندے کو شہر میں ٹھکانہ ۔
دونوں کا کام چل جاتا ہے ۔ یہاں سے پھر بدبختی محلے والوں کی آجاتی ہے۔

حل کیا ہے ؟
طریقہ کار یہ ہونا چاہیے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ جو لوگ انتخاب کررہے ہیں ان کے اندر انتخاب کرنے کی اہلیت بھی ہے یا نہیں۔ ؟
جب ایک پرائمری پاس آدمی یونیورسٹیوں کے پروفیسر منتخب کرنا شروع کردے گا تو اس یونیورسٹی کی تعلیم کا کیا حال ہوگا ؟
جب ایک کمپوڈر ہاسپٹل کے لیے ڈاکٹروں کا انتخاب کرنا شروع کردے گا کہ کس ڈیپارٹمنٹ کے لیے کونسا ڈاکٹر مناسب ہے کس کے لیے کونسا، اس ہسپتال کے مریضوں کا حال کیا ہوگا ؟
جب کچہریوں کے اندر بیٹھے ہوئے منشی سپریم کورٹ کے ججوں کا انتخاب کرنا شروع کردیں گے تو عدالتوں کے مقدمات کا حال کیا ہوگا ؟
جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا محلے کی مسجد کی کمیٹیوں کے صدر اور ذمہ دار ذیادہ تر گورنمنٹ اداروں کے ریٹارئرڈ منشی ، آفسر ہوتے ہیں ، وہ عام طور پر اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ محلے کی دینی ضروریات کو سمجھ سکیں اور پھر اسکے مطابق انتظام کرسکیں ، انکی اپنی نمازیں ، قرآن تک ٹھیک نہیں ہوتا،
انکا عموما کام یہی ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد جمع شدہ چندے کے پیسے گن لینا یا مسجد کے خادم کے پیچھے لگے رہنا کہ تم نے موٹر کیوں نہیں چلائی، مسجد کی صفائی صحیح کیوں نہیں کی ، اذان وقت پر کیوں نہیں دی، وہ مسجد، مدرسے اور تعلیم و تربیت کی ضرورت کو نا سمجھتے ہیں اور نا ان کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں ۔ اکثر و بیشتر تمام تر ذمہ داری اپنی مرضی سے منتخب کردہ اسی نیم مولوی اور حافظ پر ڈال دیتے ہیں۔
پھر جب اس ایک آدمی کے ہاتھ میں سارا انتظام و انصرام آ جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی اور اپنی خواہش سے سپیکر کو بھی استعمال کرتا ہے اور اسکی ساری تقریریں بھی اسکی ذاتی سائیکی کے گرد گھوم رہی ہوتی ہیں ، یہاں پھر خرابیوں کا پیدا ہونا یقینی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ
محلے کے سنجیدہ لوگوں اور اچھے مدارس کے معلمین کے کمبی نیشن سے ادارے چلائے جائیں اور مسجد مدرسے کا کام دینی فریضہ سمجھ کر باہمی مشاورت سے سر انجام دیا جائے۔
مساجد میں علماء کی تنخواہیں اچھی رکھی جائیں۔
دینی تعلیم کے لیے اچھے سے اچھے عالم ، قاری کو رکھا جائے اور اس کےلیے اچھے مدارس سے رجوع کیا جائے وہ اپنی ذمہ داری پر ایسے بندے کو بھیجیں جس کی زبان پر ہی نہیں دل میں بھی قرآن ہو اور وہ خوف خدا بھی رکھتا ہو اور مسجد کے نمازیوں کی دینی تربیت کا طریقہ بھی جانتا ہو۔
اسکے لیے مساجد کے آئمہ کے لیے عالم یا مفتی ہونا ضروری ہونا چاہیے ، صرف حافظ کو امام بنا دینا جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے بلکل بھی درست نہیں۔ ۔

جہاں پر انتخاب ٹھیک ہوا ، منبر اہل افراد کو سپرد کیا گیا اس کی برکت سے بہتری بھی آئی۔ وہاں کے نمازی سلجھے ہوئے اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، معاشرے میں ہمیں جو تھوڑی بہت دین کی جھلک نظر آتی ہے یہ انہی علماء کی محنتوں کا

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *