تاریخِ فلسفہ پر ایک دل چسپ ناول

10710675_1546936058876354_8597613859972127928_n

پرانی کتابوں کی دکانوں پر بعض اوقات بہت قیمتی اور دلچسپ کتابیں مل جاتی ہیں۔ایک دن ایک دکان کے پشتاروں میں داخل ہو کر ایک ناول ہاتھ لگا جس کا نام ہے : Sophie’s World، جسے ناروے کے ایک مصنف Jostein Gaarder نے تخلیق کیا اور بعد میں انگریزی میں ترجمہ ہوا۔یہ ناول دنیا کی زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔
ناول کا موضوع فلسفے جیسے خشک موضوع کی تاریخ کو داستان کے انداز میں بیان کرنا ہے۔
مغربی فلسفے کی تاریخ پر مختلف مصنفین کی کتابیں موجود ہیں جن میں سے برٹررینڈ رسل کی تاریخ نسبتا زیادہ جامع اور مفید ہے، تاہم اس کتاب کا ایک اپنا ہی لطف ہے، شروع کی تو ہاتھ سے چھوڑنا دشوار ہوگیا۔
ایک چودہ سالہ صوفی نامی بچی ہوتی ہے جو سکول سے گھر لوٹتی ہے تو ڈاک کے ڈبے میں ایک خط پڑا ملتا ہے جس پر فقط یہ لکھا ہوتا ہے: تم کون ہو؟ یہ سوال اور یہ خط اسے ایک تجسس اور تلاش میں ڈال دیتا ہے جو فلسفیانہ مزاج کا اصل الاصول ہے۔
اسی طرح کے ایک دوسرے خط پر صرف اتنا درج ہوتا ہے : یہ دنیا کہاں سے آئی؟ اور پھر نامعلوم آدمی کی طرف سے ان خطوط کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جن میں سے ہر خط چودہ سالہ بچی کی سطح کے مطابق فلسفے کے ایک سبق پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اتنا دل چسپ ہوتا ہے کہ قاری کو اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ فلسفے جیسی کسی چیز کا مطالعہ کر رہا ہے۔
یونانی فلسفیوں کے افکار سے لے کر کانٹ تک جیسے فلسفیوں کے افکار کا سفر کہانی کے انداز میں قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔
اگر فلسفے کاکوئی مبتدی قاری ہو اور انگریزی میں مطالعے پر قدرت رکھتا ہوں تو اسے ضرور اپنے مطالعے کا آغاز اس ناول سے کرنا چاہیے۔
سید متین احمد
اس کا اردو ترجمه بھی صوفی کی دنیا کے نام سے پروفیسر شاهد حمید صاحب نے ترجمه کیا هے۔ یہ ابھی نیٹ پر موجود نہیں ہے۔ انگلش کاپی یہاں سے ڈاؤنلوڈ کی جاسکتی ہے۔
http://192.184.80.244/philosophy-plain/resources/SophiesWorld.pdf
سید متین احمد

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *