تعدد ازواج پر ایک جدیدیت زدہ کا اعتراض

10527889_1546156855620941_3134023156476932782_n

ایک جدیدیت زدہ صاحب کہنے لگے کہ ”تعدد ازواج کی بات کرنے والے روایت پسند مذہبی لوگ عورت کے جذبات کی قدر ہی نہیں کرتے کیونکہ عورت انکے نزدیک انسان نہیں بلکہ مرد کے استعمال کی ایک چیز ھے۔ یہی وجہ ھے کہ یہ لوگ دوسری شادی کی وجہ سے پہلی بیوی کی پہنچنے والی رنجش کو کسی کھاتے میں نہیں لاتے”۔
ناچیز نے عرض کی کہ بھائی نہ صرف یہ کہ شریعت میں بلکہ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں کسی عمل کے جائز یا ناجائز ھونے کی یہ کوئی حتمی بنیاد نہیں ھوتی کہ اسکے نتیجے میں کسی بھی شخص کو امکانی طور پر کسی قسم کی رنجش یا دکھ تو نہیں پہنچے گا۔ اگر یہ اصول مان لیا جائے تو نکاح کے بعد لڑکی کی لڑکے کے ساتھ رخصتی بلکہ نکاح ہی کے عمل پر پابندی لگادینی چاھئے۔ آخر دنیا میں وہ کونسے ماں باپ ہیں جنہیں اپنی نازونعم میں پلی بیٹی کسی کے حوالے کرتے رنجش نہیں ھوتی؟ اور دنیا کی وہ کونسی لڑکی ھے جسے اپنا گھر چھوڑ کر پرائے گھر جاتے رنجش نہیں ھوتی؟ اور لڑکے کی ماں، جس نے اپنے لاڈلے کو پال پوس کر بڑا کیا ھوتا ھے، کیا اسے اپنا بیٹا کسی کے ساتھ شئیر کرتے کوئی رنجش نہیں ھوتی؟ تو اس سارے عمل کا مطلب کیا یہ سمجھا جائے کہ لوگ شادی کے عمل سے ‘رنجور’ ان لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے نیز یہ انہیں خواھشات پورا کرنے کا آلہ سمجھ رھے ہیں؟
اسکول، کالج و یونیورسٹیوں میں کتنے ہی طلبا ہر سال فیل ھوجاتے ہیں، تو کیا انہیں کوئی رنجش نہیں ھوتی؟ کیا نوکری کے انٹرویو کے بعد نوکری نہ ملنے والے امیدوار کو کوئی رنجش نہیں ھورہی؟ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ اساتذہ فیل ھونے والے طلبا کو انسان نہیں سمجھتے نیز انٹرویو کرنے والی کمپنیاں رد کئے جانے والے امیدواروں کو انسان نہیں سمجھتیں؟ کیا لوگوں کی رنجش کی وجہ سے اس سارے عمل کو روک دیا جائے؟ یہ نت نئی اور مہنگی قسم کی گاڑیاں جو ہر طرف رواں دواں ہیں کیا امیروں کو انہیں استعمال کرتا دیکھ کر غرباء کو رنجش نہیں ھوتی؟ یہ مہنگے کھانوں کے ریسٹورانٹس اور عالی شان گھر کیا کسی کے ارمانوں کا خون نہیں کرتے؟ تو کیا مطلب، یہ گاڑیاں چلانے والے اور ان ریسٹورانٹس میں کھانے والے لوگ ان غریبوں کو انسان نہیں سمجھتے؟ کیا کسی علاقے میں گاڑیوں کی تیز رفتار آمد ورفت کو ممکن بنانے کیلئے ایک ہائی وے بن جانے سے پیدل چلنے والوں کو کوئی تکلیف نہیں ھوتی (کہ انہیں اب بلا وجہ پیدل پل پر چڑھ کر سڑک کراس کرنا پڑتی ھے)۔ ذرا سوچتے جائیے، یہ عمل کہاں تک جاسکتا ھے۔
الغرض کسی عمل کے جائز یا ناجائز ھونے کی یہ سرے سے کوئی دلیل ہی نہیں کہ اس سے امکانی طور پر کسی کو رنجش ھوسکتی ھے، اگر یہ اصول مان لیا گیا تو زندگی محال ھوجائے گی۔
اصل بات یہ ھے کہ انسانی زندگی کے بے شمار پہلو ہیں، ان میں سے بعض بعض پر فوقیت رکھتے ہیں۔ بسا اوقات کسی اھم تر مقصد کو حاصل کرنے کیلئے کم اھم شے کو قربان کرنا ہی پڑتا ھے۔ یہی معاملہ تعدد ازواج کا ھے۔ چنانچہ شرع نے ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت اس مفروضے پر نہیں دی کہ اس سے پہلی بیوی یا کسی اور کو کسی قسم کی رنجش کا امکان ھے ہی نہیں بلکہ اس بنیاد پر دی ھے کہ دیگر بہت سے معاشرتی مسائل کا حل اس رنجش سے زیادہ لائق التفات ھے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *