مولوی قرآن بیچتا ہے اور ترقی کا دشمن ہے

aa

سلامیات کے ایک پروفیسر صاحب سے ایک دوست کی تقریبِ نکاح میں ملاقات ہوگئی مولویوں پر بہت سخت ناراض تھے کہنے لگے مولوی قرآن پڑھا کر تنخواہ لیتاہے نماز پڑھا کر بھی تنخواہ لیتاہے لوگوں کو قرآن پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے اور خود قرآنی آیات کی مخالفت کرتاہے قرآن کریم کی آیت میں اللہ تعالیٰ کہتے ہیں

’’میری آیتوں کو معمولی قیمت کے بدلے فروخت نہ کرو‘‘
یہ مولوی قرآن بیچتاہے اللہ تعالیٰ کی آیتیں بیچتاہے۔
عرض کیا پروفیسر صاحب۔۔۔! آپ ماشاء اللہ انیسویں گریڈ کے پروفیسر ہیں یونیورسٹی میں اسلامیات پڑھا تے ہیں کیا آپ تورات انجیل یا گیتا اور گرنتھ کی مدد سے اسلامیات کے موضوع پر لیکچر دیتے ہیں؟
کہنے لگے جناب یہ مولوی اکیلا اسلام کا ٹھیکیدار نہیں ہے ہم بھی قرآن وحدیث جانتے ہیں اور آیات قرآنی اور اقوال نبوی کی روشنی میں لیکچر دیتے ہیں.
پوچھا محترم! یہ کونسی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس ہوکر کرسی پر بیٹھ کر اسلامیات پڑھا نا اور اعلی قسم کی مراعات اور تنخواہیں لینا قرآن بیچنے کے زمرے میں نہیں ہے اور چٹائیوں پر بیٹھ کر معمولی تنخواہوں میں بچوں کو دینی تعلیم دینا قرآن بیچنے کے زمرے میں ہے۔؟ اور پھر آپکی نماز بھی بڑی ’’سستی‘‘ ٹھہری پورا محلہ چندہ کرکے دو ڈھائی ہزار روپے امام صاحب کو تھما دیتا ہے وہ بھی بسااوقات وقت پر نہیں دئیے جاتے۔ اس سے تو حاتم طائی کی روح بھی شرمسار ہوجاتی ہوگی۔
بھئی اگر بیچنے پر ہی آگئے ہو تو کم ازکم قیمت تو صحیح لگاؤ۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا مسلمان بھی ہے جو یہ دعویٰ کرسکے کہ میں اﷲ کی آیات کی قیمت ادا کرسکتا ہوں۔ (العیاذباﷲ)
چڈا پہن کر قرآن کی تفسیر سے کھیلنا یا کیبل پر نشر ہونے والے مادرپدر آزاد پروگراموں میں امریکی و یورپی نظریات کو ’’قرآنی چھتری‘‘ مہیا کرکے این جی اوز سے مال اینٹھنا آیاتِ الہٰیہ کو بیچنے کی تعریف میں نہیں آتا؟
حقیقت یہ ہے کہ تمام واویلا یہودو نصاری سے وصول ہونیوالی ’’مزدوری‘‘ کو خفیہ طریقہ سے ٹھکانے لگانے کیلئے ہوتا ہے۔
پھر کہنے لگے یہ ’’ملا‘‘ لوگ ترقی کے دشمن ہیں۔ تنگ نظر اور رجعت پسند ہیں۔ ہم جب بھی ملکی ترقی اور قومی مفاد کا کوئی فیصلہ کرتے ہیں یہ بیچ میں ٹانگ اڑاکر سارا کام خراب کردیتے ہیں !
عرض کیا: محترم !’’ملا‘‘ لوگوں کی ٹانگ اڑتی ہے تو وہ اڑاتے ہیں ! دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان کی ٹانگ اڑتی کیوں ہے؟ پہلے تو آپ اس بات کا جواب دیں کہ ملکی مفاد اور قومی ترقی کا وہ کونسا فیصلہ ہے جسکے خلاف مولوی نے فتویٰ جاری کرکے رکاوٹ پیدا کی ہو؟!
کیا صحت عامہ کی بحالی کیلئے ہسپتال قائم کرنے کے خلاف کسی ’’ملا‘‘ کا فتویٰ شائع ہوا ؟
کیا سڑکیں بنانے اور بجلی کا نظام بہتر کرنے کے خلاف ’’ملا‘‘ نے کوئی احتجاج کیا ؟ کیا ریلوے اور ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری کی کوششوں کو ’’ملا‘‘ نے کبھی سبوتاژ کیا؟
آخروہ کونسا قومی مفاد کا فیصلہ ہے جسکا راستہ روکنے کیلئے مدارس ومساجد کے ’’ملاؤں‘‘ نے اڑنگی لگاکر اسے روکا ہے !
ہاں ! البتہ اگر آپ قرآن کریم میں تحریف کی کوئی ناپاک کوشش کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان شاء اللہ یہ ’’ملا‘‘ اپنی تمام ترصلاحیتیں برو ئے کار لاکر آپکا پورا محاسبہ کریگا اور قلعہ اسلام کے تحفظ کیلئے لاشوں کے انبار لگانے اور خون کے دریا بہانے سے بھی گریز نہیں کر یگا۔
اصل مسئلہ مولوی کی پوزیشن کی بحالی کا نہیں بلکہ مولوی کی پوزیشن سے خوف کا ہے۔ مولوی کو معاشرہ میں جو احترام واعتماد حاصل ہے اس کے پس منظر میں قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے۔۔۔!
مولوی کو معاشرہ میں جو پوزیشن حاصل ہے وہ اسے پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی گئی ہے کہ اس سے چھینے جانے کا کوئی تصور کیا جاسکے۔۔۔!
مولوی جب تک صحیح معنی میں مولوی ہے معاشرہ میں اسکی حیثیت مجروح نہیں ہوسکتی اور اس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا سکتا۔
کالی بھیڑیں ہر طبقہ میں ہوتی ہیں اور مولویوں کے طبقہ میں بھی ایسے افراد کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کیلئے بہت سی نامناسب حرکتوں کا ارتکاب کیا ہے مگر یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اسلامی مفادات کی قیمت پر اس طبقہ کے کسی گھٹیا ترین شخص نے بھی ذاتی مفادات حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔
ہندوستان کا واقعہ ہے ایک مولوی صاحب تقریر کررہے تھے کسی نے بھپتی کسی کہ آجکل ملّا ’’حرامی‘‘ ہوگئے ہیں۔
مولوی صاحب نے اطمینان سے جواب دیا کہ بات ایسی نہیں بلکہ ’’چند حرامیوں‘‘ نے مولویوں کی وضع قطع اختیار کرلی ہے۔ انہیں تلاش کرنا آپکا کام ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *