شادیاں حرام اور زنا حلال

10624752_1546533375583289_1966782510596333947_n

ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملےمیں یہ بات رواج پکڑ گئی ہے کہ لوگ ہندوؤں کی طرح دوسری شادی کو ناجائز سمجھنے لگے ہیں، دوسری شادی کے خلاف عجیب و غریب تاویلات گھڑی جاتی ہیں،

ایک یہ دلیل عام سننے کو ملتی ہے کہ بھئی انصاف نہیں کرسکتے،
بندہ باقی معاملات میں چاہے جتنا مرضی کرپٹ ہو، صرف اس معاملہ میں انصاف ہڈی بن جاتا ہے، ٹرینڈ ایسا چل پڑا ہے کہ جو بندہ اپنے معاملات میں عادل ہوتا ہے اسکو بھی روک لیا جاتا ہے کہ جی معاملہ بہت سخت ہے ایک پر ہی گزارہ کرو چاہے وہ ایک بانجھ ہی کیوں نہ ہو یا چاہےگندی عورتوں میں ہی منہ کیوں نہ مارنا پڑے۔۔ زنا کرنا ٹھیک ہے دوسری شادی کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
ایک شادی پر اکتفا کرنے والے لوگوں کی تعریف بھی کی جاتی ہے کہ دیکھو جی فلاں مرد کتنا اچھا ہے اس نے ایک بیمار عورت کیساتھ ساری زندگی گزار دی، فلاں شخص کو دیکھو اس نے کتنی قربانی دی ہے کہ بیوی کے مرنے کے بعد صرف بچوں کی دیکھ بھال کے لیے دوسری شادی نہیں کی ۔ ۔
یہ رویہ تو ان لوگوں کا ہے جو دوسری شادی کی جائز وجہ مثلا بیوی کے بانجھ ہونے، فوت ہوجانے، کسی بیماری میں مبتلا ہو جانے کے باوجود شادی نہیں کرتے،
جبکہ اسوقت معاشرے میں ضرورت اسکی ہے کہ ہر وسعت رکھنے والے شخص کو دوسری شادی کرنی چاہیے۔ اس وقت دنیا میں عورتوں کی تعداد ہر جگہ مردوں سے ذیادہ ہے ، ہر گھر میں اوسطا دو تین لڑکیاں ہیں ، لڑکے ہر جگہ کم ہیں،
دوسری طرف ایک کارنامہ ہمارے میڈیا نے بھی کیا ہے کہ شہوانی جذبات کو انتہائی لیول تک بڑھا دیا ، لڑکے لڑکیاں شروع بلوغت میں ہی خواہش پوری کرنے کے راستے ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں۔۔
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنی نسل کو گندگی کی طرف جانے سے بچانے کے لیے شادیوں کو آسان بنایا جاتا اور ایک سے زائد شادی کو رواج دیا جاتا اور اسکو سہراہا جاتا ، لیکن یہاں اس کے بالکل الٹ کیا جارہا ہے معاشرے میں ناصرف شادیوں کو انتہائی مشکل کردیا گیا ہے بلکہ دوسری شادی پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔
افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مذہبی گھرانوں میں بھی ایک شادی پر اکتفا کو عقیدے کا درجہ دے دیا گیا ہے ، پہلے انکے ہاں بچیوں کی جدید تعلیم پر پابندی تھی اب والدین اپنی بچیوں کو دنیاوی تعلیم صرف اس دلیل کے سہارے دینے لگ گئے ہیں کہ طلاق ہوجانے کی صورت میں چھوٹی موٹی نوکری کرکے اپنا گزر بسر خود کرسکے گی ، کسی کی محتاج نہ ہوگی ۔ مطلب طلاق ہوجانے کی صورت میں دوسری شادی کی سوچ رکھنی بھی گوارا نہیں کی جارہی ۔۔۔!!
ایک اور بات عام دیکھنے کو ملتی ہے کہ لوگ اپنے بیٹوں کی شادیاں اس وجہ سے لیٹ کرتے ہیں کہ انکی بہنوں کی شادی ابھی نہیں ہوئی ہوتی، چاہے لڑکا بوڑھا ہورہا ہو یا زنا کی طرف مائل ہورہا ہو اس بات کو عیب سمجھا جاتا ہے کہ کسی کی بہنیں موجود ہوں اور وہ اپنی شادی کی بات ہی کرے۔ ۔ اس طرح شادی کے قابل لڑکوں کو شادی سے روک کر مردوں کی تعداد کو مزید کم کردیا جاتا ہے، اسکی ایک مثال دیتا ہوں ، ایک بستی میں جتنے گھر ہیں ان سب گھروں میں جوان لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں، اب ہر گھر یہی سوچ رہا ہے کہ پہلے لڑکی کی شادی ہوجائے پھر لڑکے کی کریں گے، آپ بتائیں کیا وہاں کسی لڑکی کی شادی ہوسکے گی۔ ۔؟

فیس بک تبصرے

شادیاں حرام اور زنا حلال“ ایک تبصرہ

  1. ہمارے محلے میں خان صاحب رہتے ہیں۔ اچھے آدمی ہیں ان کی دو بیویاں ہیں دونوں ایک ساتھ رہتی ہیں تقریباِ دس سال مجھے دیکھتے ہوئے ہو گے ہیں آج تک ان کی کبھی لڑائی نہیں ہوئی دونوں عورتیں بہت اتفاق سے رہتی ہیں خان صاحب کوئی بہت امیر انسان نہیں ہیں – — میں ہمشہ سوچ کر حیران ہو جاتا ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ میرے چچا کے لڑکے نے بتایا کے ان کے گھر کے قریب پٹھان نوجوان لڑکا ہے اس کی تین بیویاں ہے۔ میں تو اور زیادہ حیران ہو گا یہ کیا۔۔۔ ہمارے ایک رشتہ دارہے انہوں نے دو شادیاں کی ہیں تقریبا 26 سال ہوگے ہیں انہوں نے اپنی دونوں بیویوں کو ایک ایک کمرہ دیا ہے پہلی بیوی کے ہاں اولاد ہے جبکہ دوسری کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہے ان کے پانچ بچے ہیں جو سب پہلی بیوی سے ہی ہوئے ہیں ان دونوں عورتوں کے درمیان کبھی کبھار ہلکی پھلکی لڑائی بھی ہوتی ہے جو کہ کچھ دوسرے لوگوں کی سازش اور شرارت کی وجہ سےہےجبکہ ان کے بچے اپنی اصل ماں کے بجائے سوتیلی ماں سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں انکی سوتیلی ماں ایک بہت لمبے عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہے لیکن بچوں اور ماں کے درمیان پیار بڑا مثالی ہے ایک دفعہ ان بچوں کی اس سوتیلی ماں کی بیماری کا سن کر ایک عورت اس کو دیکھے آئی اور اس عورت نے کہا کے اس گلاس میں مجھے پانی نہ دینا جس میں اس بیمار کو دیا ہے یہ بات سن کر اس کی بیٹی آگ بگولا ہوگی کہ آخر تم نے یہ بات کیوں بولی ہم تو اسی گلاس میں پانی پیتے ہیں ہم کو آج تک کچھ نہ ہوا وہ لڑکے اور لڑکیاں اپنی اس سوتیلی ماں کی بہت خدمت کرتے ہیں اور میں اس وقت بہت حیران ہوگیا کہ جب انکی وہ سوتیلی ماں فوت ہوئی تو جتنے وہ بچے افسردہ دیکھائی دیئے اتنا کوئی دوسرا نہیں ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، جب میں چھوٹا تھا تو ہمارے گھر کے قریب ایک ہندوستانی فیملی رہتی تھی وہ اردو سپیکنگ لوگ تھے وہاں ایک بڑے میاں رہتے تھے جن کی دو بیویاں تھیں اور دونوں کے بچے بھی تھے جو ہمارے ساتھ کھیلا کرتے تھے ان کے یہاں کوئی لڑائی نہ تھی۔ اور آپ کو کس کس کے بارے میں بتاؤں بات بہت لمبی ہو جائے گی۔۔۔۔ دراصل ہماری ذہنی کیفیت ایک نئے رخ پر آ گی ہے اور میڈیا ٹی وی ڈرامے فلم خبروں وغیرہ میں دوسری شادی کو ایک ظلم ٖفساد تشدد بے انصافی عیش پرستی اور ڈرونا بنا کر دیکھایا جاتا ہے جس کی وجہ لوگوں کی ایک خاص قسم کی ذہن سازی ہوگی ہے اب اگر کوئی دوسری شادی کا نام لے لے اسکی توشامت آ جاتی ہے لوگ اسکو کمینا عیاش ظالم اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہیں ۔اب ہمارا معاشرہ برائی کی حدوں تک پہنچ گیا ہے ہر شہر میں جگہ جگہ برائی کے اڈے موجود ہیں پچھلے دنوں میں اے آر وائی، سما ٹی وی،دوسرے بہت سے چینلز کے کچھ خاص پروگرام کو انٹرنیٹ کے ذریعے دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں یہ دیکھایا گیا کے پولیس والے کسطرح پیسے لے کر برائی کا کام کرنے والے مرد وں اور عورتوں کو سہولت حفاظت اور سہارا فراہم کرتے ہیں عورتوں اور لڑکیوں کو پانچ سو سے لے کر ہزار وں روپے کے بدلے برائی کےلیے فراہم کیا جاتا ہے مطلب یہ کے اب زنا بہت سستا ہو گیا ہے اور نکاح بہت مہنگا ہوگیا ہے اور یاد رکھو جو چیز سستی ہوتی ہے لوگ اس کی طرف بھاگتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس چیز کو سستا کر رہے ہیں اور کس چیز کو مہنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے بہت سے لوگ ہیں جو شادی شدہ اور بال بچے دار ہونے کے باوجود باہر جا کر اپنے لاکھوں ہزاروں روپے خرچ کر کے برائی اور زنا میں مبتلا ہوتے ہیں اور اگر ان کے رشتہ داروں دوستوں اور حتٰی کے بیوی کو بھی اس بات کا پتا چل جائے تو وہ اس بات کو شغل مزاق اور موج مستی کہہ کر ٹال دیتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص اپنے نفس کی شرافت کی وجہ سے دوسری شادی کا نام بھی لے لے تو اسکے دوست احباب رشتہ دار بیوی بچے اسکو مجرم سمجھ کر اسطرح گھیر لیتے ہیں جسطرح پولیس والے کسی چور اور ڈاکو کو گھیر لیتے ہیں”””””””””””’ممکن ہے کہ کوئی جاہل انسان اپنی ایک بیوی کے ہوتے ہوئے کسی بھولی بھالی نادان لڑکی کو اپنی مکاری سے پھنسا لے یا بھگا لے اور اس سے اپنامطلب پورا ہو جانے کے کچھ سالوں یا مہینوں بعد چھوڑ دےاور ایسا وہ کئی لڑکیوں کے ساتھ کئی دفعہ کر چکا ہو ،بلا شبہ ایسے کئی دھوکے باز افراد بھی ہونگے جو دوسری شادی کانام لے انتہائی عیاری اور مکاری سے کام لیتے ہونگے اب ایسے افراد کو دیکھنے والے لوگ کہیں گے دیکھو یہ دوسری شادی کتنی بری چیز ہے یہ تو بلکل ایسے ہی ہے جیسے ایک علاقے کے سارے شریف اور صاحب حیثیت لوگ نماز پرھنا چھوڑ پڑھنا دیں،اور اس علاقے کے کچھ ڈاکو اور چور نماز پڑھنا شروع کر دیں تو دیکھنے والا کہے دیکھو نماز کتنی بری چیز ہے اب تو چوروں اور ڈکیتوں نےپڑھنا شروع کر دی ہے ہم ایسے لوگوں کی وجہ سے نماز کو کھبی بھی برا نہیں کہہ سکتے اسی طرح ہم کچھ لوگوں کےفعلِ بد کی وجہ سے دوسری شادی کو برا نہیں کہہ سکتے”””””””’ ہاں اب یہ بھی ممکن کے کو ئی شخص دوسری شادی کرے اور پہلی بیوی کے ساتھ انتہائی برا اور نامناسب سلوک کرے اور انتہائی تشدد اورستم کا رویہ اپنائے، یہاں بنیادی بات یہ ہے ہمارے معاشرے کی کوئی بھی عورت یہ نہیں چاہے گی کہ اسکا شوہر دوسری شادی کرے بلکہ آج تو ہر عورت کی یہی خواہش ہوگی میں اپنے شوہر کے ساتھ بلکل اکیلی رہوں( کسی حد تک اسکا حق بھی ہے) شوہر کے ماں باپ بہن بھائی رشتہ دار کوئی بھی ہمارے ساتھ نہ رہے بلکہ جتنا دور ہو اتنا ہی اچھا ہے اور خود بیوی کے ماں باپ بہن بھائی اور رشتہ دار جتنا قریب ہوں اتنا ہی اچھا ہے”اب ایسے ماحول میں ایک شخص دوسری شادی کر لے تو وہ تو غصے اور غم میں پاگل ہوجائے گی، انتہائی حسد اور دکھ میں ہونے کی وجہ سے اسکا اپنے شوہر سے پہلا مطالبہ تو طلاق کا ہی ہو گا اور اگر نوبت کسی مجبوری یا کسی اور وجہ سےطلاق تک نہ بھی پہنچے تو اب وہ اپنے شوہر سے اب نفرت انگیز لہجے میں بات کرنے لگے گی چھوٹی چھوٹی بات کا بتنگڑ بنانے لگے گی شدد بدتمیزی اور بدزبانی کرتے ہوئے اپنے شوہر کو اس بات کا احساس دلائے گی کہ اس نے دوسری شادی کر کے بہت ہی نیچ کھٹیا اور برا کام کیا ہے، لازمی بات کہ شوہر غصے اور عدم برداشت کی وجہ اب عورت پر ہاتھ اٹھائے گا تو وہ اور زیادہ زور سے چیخے چلائے گی کہ میری محبت اب میرے شوہر کے دل میں نہیں رہی اور یہ شور شرابا روز بروز بڑھتا ہی جائے گا ،،شوہر بھی اب لاعلم جاہل ہونے کی وجہ سےتوجہ کم کر دے گا اور یوں سارا کا سارا معاملہ بگڑ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کے برعکس ایک شخص دوسری شادی کرتا ہے اس کی پہلے سے موجود بیوی اپنے شوہر کے اس فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرتی ہے اور اپنے شوہر سے یہ کہتی ہے کہ آپ نے دوسری شادی کی ضرورت کومحسوس کرتے ہوئے شادی کر کے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے اور میں آپ کے اس فیصلے سے بہت خوش ہوں، امید ہے کہ آپ مجھ سے پہلے ہی کی طرح محبت کریں گے اللہ کا بڑا کرم ہےآپ پے کہ آپ نے زنا والے راستے سے بچتے ہوئے نکاح والے راستے کو اختیار کیا ہے اور اس کے بعد کسی بزرگ عزیز صاحبِ علم شخص کو بیچ لا کر ان کو یہ کہے کہ میرے شوہر نے دوسری شادی کی ہے لہذا آپ ان کو بہتر انداز میں اس سے متعلق کچھ نصیحت اور ہدایت کریں، اور ایسے موقع پر باہم معاملات کو سلجھانے کی تدابیر سے آگاہ کریں۔اور وہ علم سے واقف شخص ان شوہر صاحب کو ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان عدل، انصاف، حسنِ معاملات، اتفاق اور انبیاء ؑ خاتم الانبیاء ﷺ، صحابہؓ، اولیاء فقہا،صالحین،علماء کے اپنی بیویوں کے درمیان عدل اور انصاف کےواقعات کو بیان کریں۔ اور تھوڑے عرصے بعد ان کے حال احوال پوچھتے رہیں اور نصیحت و رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اس سب کے بعد نہیں لگتا کہ حالات خراب ہوں اوربات بگڑے۔ سچ ہے یہ بھی کہ تقدیرکے لکھے کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *