خلاف عادت اور خلاف عقل میں فرق

10648324_1523848517851775_8161036780869299901_o

آجکل خلافِ عقل کا لفظ نئے تعلیم یافتہ اور سیکولر لبرل حضرات کی زبانوں پر ایسا چڑھا ہے کہ شریعت کی اکثر باتوں پر بےدھڑک یہ لفظ بول اُٹھتے ہیں۔ نہ اُن کی حقیقت اور مفہوم سمجھتے ہیں نہ اُس کا موقع استعمال۔
عام پڑهے لکھے لوگوں کے سامنے وجود ملائکہ وجود جنات وغیرہ اور دہریہ مزاج لوگوں کے سامنے وجود باری تعالیٰ.، جنت، جہنم وغیرہ کا جب تذکرہ آتا ہے تو فورّا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ خلاف عقل باتیں ہیں ۔ پچھلے زمانے میں تعلیم نہ تھی لوگ سیدھے اور بھولے تھے وہ لوگ اپنی کم علمی کو تسلیم کرتے تھے اور جیسا کوئی اہل علم کہے مان لیتے تھے ۔ آجکل علم نہ ہونے کے باوجودبات کی کھال نکالی جاتی ہے دلیل کسے کہتے ہیں ،اور دلیل کی سمجھ نہ ہونے کے باوجودہر بات کی دلیل مانگی جاتی ہے۔ اب ایسی باتیں نہیں چل سکتی.
وضاحت سے پہلے دو لفظوں محال اور مستبعد میں فرق سمجھ لیں.
محال وہ ہے جس کے وجودکو عقل تسلیم نہ کرے یعنی انسان کو اسکا وجود غیر منطقی یا خلاف عقل لگے۔.
مستبعد وہ ہے جس کے وقوع کو عقل تسلیم کرے مگر اس کا وقوع کبھی دیکھا نہیں دیکھنے والوں نے اور بکثرت سُنا نہیں گیا ، مطلب یہ خلاف عادت ہے .ان دونوں کو ایک سمجھنا غلطی ہے. محال کبھی واقعہ نہیں ہو سکتا مستبعد واقع ہو سکتا ہے
ان لوگوں سے غلطی یہاں ہی ہوئی کہ یہ لوگ خلاف عادت کو خلافِ عقل کہہ رہے اور سمجھ بیٹھے ہیں.
وضاحت؛:-
خلاف عقل اسکو کہتے ہے جس کے وجود کے ناممکن ہونے پر دلیل عقلی موجود ہو، ایسی چیز کے اگر کوئی موجود ہونے کی کوئی خبر دےتو اس کو جھٹلایا جا سکتا ہو بلکہ جھٹلانا ضروری ہو۔ مثلاّ کوئی کہے کہ ہم نے فلاں مقام پر رات اور دن دونوں کو ایک وقت می جمع دیکھا ہے. اب چونکہ دو ضدوں (دو مخالف چیزوں)کا جمع ہونا عقلاّ ناممکن ہے اس وجہ سے اس کو فورّا جھٹلا دیا جائے گا اور اس کو سچا سمجھنا غلطی ہوگی یا کوئی کہے کہ ‘ایک’ برابر ہے ‘دو’ کےتو چونکہ اس کے نا ممکن ہونے پر دلیل عقلی موجود ہے اس لیے اسے بهی جھٹلا دی جائے گااور کہا جائے گا کہ یہ خلاف عقل ہے.
خلاف عادت اس کو کہتے ہے کہ کوئی بات عجیب لگےلیکن کوئی دلیل عقلی ایسی موجود نہ ہو جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ ایسا ہونا ناممکن اور عقلی طور پر محال ہے. خلافِ عادت چیز دیکھنے یا سُننے سے شروع شروع میں تعجب اور حیرت ہوتی ہے لیکن بار بار دیکھنے اور سُننے سے وہ بھی داخلِ عادت ہو جاتی ہے پھر وہ تعجب جاتا رہتا ہے۔
مثلاً عادت یہ ہے کہ آدمی کا قد چھ سات فٹ کا ہوتا ہے۔ اگر کوئی خبر دے کہ اک آدمی سو فٹ کا بهی موجود تھا یا ہے تو بڑی حیرت اور تعجب ہو گا یہ فطری امر ہے لیکن کوئی صاحب عقل یہ نہیں کہے گا کہ یہ خبر غلط ہے یہ ناممکن ہے۔ اگر کوئی ایسا کہے کہ اتنا لمبا قد ہونا خلافِ عقل ہے تو اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ دلیل بیان کرو جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ہونا نا ممکن ہے. ایسی دلیل عقلی کبھی نہیں مل سکتی۔
اسی طرح اک شخص جس نے ہمیشہ گاڑی کو بزریعہ بیلوں گھوڑوں کے چلتے دیکھا ہو یہ کہنا کہ ریل ایک گاڑی ہے جو بلا بیلوں کے چلتی ہے
یا اسے کہا جائے کہ کچھ گاڑیاں (ہوائی جہاز ) ہوا میں بھی اڑتی ہیں. اس کے لیے یہ تعجب اور حیرت کا باعث ضرور ہو گا لیکن وہ یہ نہیں کہے گا کہ یہ غلط اور خلاف عقل ہے کیونکہ کوئی عقلی دلیل ایسی اس کے پاس نہیں ہے جس سے ایسا ہونا محال ثابت ہو جائے۔یہی حال تعلیم یافتہ اصحاب کی غلطی کا ہے کہ خلاف عادت کا نام خلاف عقل رکھا ہے اور ہر سمجھ اور تجربے میں نہ آنے بات پر خلاف عقل کا لفظ بول اُٹھتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *