کیا پاکستان کےموجودہ حالات کا ذمہ دار اسلام ہے ۔ ۔؟

10462916_1490741764495784_3766942053903723624_n
سیکولر طبقہ ایک ایسے پاکستان کو قبول کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں جس کے پیچھے مسلم قومیت کی کرشمہ سازی ہواس لیے انکی طرف سے اکثر یہ طعنہ سننے, پڑھنے کو ملتا ہے کہ اگر اسلام میں اتنی قوت ہوتی تو پاکستان ایک رہتا، پاکستان معاشی طور پر ایک مستحکم قوت ہوتی، اسکے ادارے مضبوط ہوتے، یہ ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہوتا۔ ۔
پہلے تو ان سے پوچھنے کا سوال یہ ہے کہ کیا مشرقی پاکستان مذہبی طبقہ کی وجہ سے علیحدہ ہوا؟ کیا اس ملک میں کرپشن دین دار طبقہ کررہا ہے؟ کیا اسکی حکومت ، تحقیقی ادارے، کالج یونیورسٹیاں مولوی چلا رہے ہیں ؟کیا تمام ملکی ادارے اسلامی اصولوں کے مطابق کام کررہے ہیں ؟ اتنی دیر پا یا موثر رہنے کی صلاحیت تو کسی نظام میں بھی نہیں کہ آپ اسے نافد بھی نہ کریں اور نظام صرف نام (اسلامی جمہوریہ ) رکھ دینے کی وجہ سے یہ آپ کو اکٹھا رکھے یا سیاسی جلسوں میں صرف اسلام زندہ باد کے نعرے لگا دینے سے اس نظام کے ثمرات آپ کو ملنا شروع ہوجائیں ۔
دوسری طرف سیکولر طبقہ کے اپنے حالات یہ ہیں کہ پاکستان کی وحدانی قوت کو پاش پاش کرنے کے لیے لسانی اور علاقائی تعصبات ابھارنے میں انکا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ آج بھی دیکھا جائے تو نظر آئے گا کہ ملک میں قومیتوں کی سیاست کون سے گروہ کررہے ہیں؟ بنگلہ دیشی تحریک سے لے کر سندھو دیش، بلوچ قوم پرست تحریکیں، مہاجر ازم کے علم بردار ، خود پنجاب میں پنجابیت اور سرائیکیت کا فتنہ جگانے والے کون لوگ ہیں؟ ۔ کیا یہ دینی پس منظر کے حامل لوگ ہیں؟ ایک اندھا بھی دیکھ سکتا ہے کہ پاکستان کے ملی اور جغرافیائی وجود پر تیشہ زنی کرنے والے یہ تمام لادین گروہ جس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اسکے عناصر ترکیبی لسانی قوم پرستی، بے دینی ، ہندو دوستی ہے۔ سیکولر یہ سب کچھ جو کررہے ہیں کیا اس سے معاشرے میں وحدت پیدا ہوتی ہے؟
اس سے بڑی منافقت اور کیا ہوگی ایک طرف اسلام کو بغیر نافد کیے یہ طعنہ دیا جائےکہ ” یہ ترقی اور قومی وحدت کا وسیلہ نہیں، یہ تجربہ ناکام ہوگیا ہے” دوسری طرف خود اسکی پیدا کردہ وحدت کو لسانی اور نسلی سیاست اور فکرکے ذریعے بربا د بھی کیا جائے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *