علم منطق – بنیادی اصطلاحات اور شاخیں

13 م

الحمد للہ آج کی یہ قسط ہمارے اسباق کے اس سلسلے کی چوتھی قسط ہے۔ اپنی بہت سی دوسری مصروفیات کو چھوڑ کر میری پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان اسباق کا سلسلہ یونہی جاری رہے، سو جیسے ہی وقت ملتا ہے ویسے ہی فوراً لکھنے کی شروعات کر دیتا ہوں۔
پچھلی قسط میں ہم نے منطق کے تعارف اور مقاصد پر بات کی ہے۔ اب میں نے سوچا ہے کہ چند متصل اقساط منطق ہی کے اسباق پر قائم کی جائیں۔ یہاں تک کہ احباب میں فلسفے کو سمجھنے کے لیے فکر کی درستی کے حوالے سے اتنی معلومات جمع ہوجائے کہ آگے آنے والی فلسفیانہ مباحث میں ایک تو دلچسپی باقی رہے، اور ساتھ ہی انہیں اور ان میں موجود استدلال کے دقیق نکات کو سمجھنے میں بھی شوق پیدا ہو۔
ایک اہم بات جان لیجئے کہ چند اصطلاحات جو میں بہت عام استعمال کروں گا انکی تعریف وقتاً فوقتاً آج اور آنے والی چند قسطوں میں بیان کردی جائے گی۔ میں ان اصطلاحات کی باریکیوں اور ان کی اقسام اور پھر اقسام کی اقسام (جیسا کہ عربی منطق میں پڑھائی جاتی ہیں) پیش کرنے سے بالکل پرہیز کروں گا۔ اصطلاحات کی جو تعریف میں کروں گا، انہیں ذہن میں رکھیں۔ آگے آنے والی بحثوں میں ان اصطلاحات سے ہمیشہ وہی معانی مراد لیے جائیں گے جیسا کہ وہ تعریف کیے جائیں گے۔ اس لیے ان کا جاننا اور ذہن میں رکھنا ضروری ہوگا۔

علم:
لفظ علم سے عام طور پر جو معانی مراد لیے جاتے ہیں اسے ان اسباق کو پڑھتے ہوئے ذہن سے نکال دیجئے۔ علم کا مطلب ہے جاننا۔ یہاں اس سے نہ کتاب میں پڑھا ہوا علم مراد ہے، نہ اسلامی علم، نہ قران و حدیث کا علم، نہ سائنس کا اور نہ دوسرا کوئی علم مراد ہے۔ علم کا مطلب جاننا ہے اور جاننے کی اکائی”واقفیت” ہے۔ انسان جب دنیا میں پہلی بار آتا ہے اور وہ رو کر پہلی سانس کا آغاز کرتا ہے۔ یہ “سانس لینا” اس کا پہلا علم ہوتا ہے۔ دنیا میں آکر دنیا کو دیکھنا اس کا دوسرا علم ہے۔ اس کے بعد مستقل علوم کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے جس میں پہلی بار چوٹ لگنا، پہلی بار کچھ کھانا اور پینا، یہ سب کچھ علم ہے۔ اب اس کے بعد آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر ایک تین لفظوں کا کوئی جملہ ہے جیسے “زید انسان ہے” یا “انسان فانی ہے” یا “آدمی بخیل ہے” تو ان میں ہر ایک جملہ بھی ایک ایک علم ہے۔
فکر:
منطق میں فکر سے مراد کسی چیز پر غور کرکے اس کا کوئی نتیجہ نکالنا ہوتا ہے۔ فکر کا نتیجہ تصورہے۔

تصور:
کوئی بھی چیز جس کا نام سن کر اس کے حوالے سے آپ کے دماغ میں اس کی صورت بن کر سامنے آجائے یہ تصور ہے۔ مثلاً لفظ انسان کہنے سے آپ کے ذہن میں انسان کا خاکہ یا تصور آجاتا ہے۔ یا آپ کے جاننے والوں میں سے کسی کا نام کوئی شخص لے جیسے زاہد، تو آپ کا دماغ فوراً اپنے دوست زاہد کی طرف منتقل ہوجائے یہ تصور ہے۔ یا پھرگھوڑا، بکرا، گائے وغیرہ۔ تصور کو الفاظ میں ادا کیا جائے تو اسے “نام” کہا جاتا ہے۔

تصدیق:
ایک سے زیادہ تصورات کا تقابل تصدیق کہلاتا ہے۔ جیسے زاہد انسان ہے۔ اس میں دو تصورات (زاہد اور انسان) کو ملاکر ایک تصدیق قائم گئی ہے۔ تصدیق میں یا تو کسی چیز کا ہونا پایا جاتا ہے یا نہ ہونا پایا جاتا ہے۔ جیسے: گھوڑا جانور ہے، بندر انسان نہیں ہے۔

قضیہ:
کسی تصدیق کو جملے میں ادا کرنا ایک قضیہ کہلاتا ہے۔ یعنی تصدیق کی لفظی صورت قضیہ ہے۔

استنتاج:
دو تصدیقات (قضایا) کے تقابل سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ استنتاج کہلاتا ہے۔ جیسے:
انسان فانی ہیں
سقراط انسان ہے
اس لیے، سقراط فانی ہے

یہاں انسان ایک تصورہے، سقراط دوسرا، فانی تیسرا تصور ہے۔ انسان اور فانی کو ملا کر پہلی تصدیق یا قضیہ قائم ہوا یعنی انسان فانی ہیں۔ سقراط اور فانی سے دوسرا قضیہ قائم ہوا اور ان دونوں قضایا سے ایک استنتاج قائم ہوا یعنی “سقراط فانی ہے”۔

صحتِ فکر:
صحتِ فکر سے مراد فکر کی درستی کو معلوم کرنا ہے۔ اس کے آزمائش دو اقسام پر ہوتی ہے۔
پہلی قسم یہ کہ آپ کی فکر میں قضایا اور حاصل شدہ استنتاج میں کتنی مطابقت پائی جاتی ہے۔
مثلاً اگر کہا جائے:

سب انسان فانی ہیں
سقراط انسان ہے
اس لیے، سقراط فانی نہیں ہے۔

یہاں فکر میں بذاتِ خود مطابقت نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ آپ نے درست قضایا پر غلط استنتاج قائم کیا ہے جب انسان کو فانی مانا ہے اور سقراط کو انسان مان لیا تو سقراط کو فانی ماننا ضروری ہے۔

دوسری قسم یہ کہ آپ کی فکر و قضایا اور استنتاج میں باہر کی مادی دنیا سے کتنی مطابقت پائی جاتی ہے۔
مثلاً اگر کہا جائے:
سب انسان ہرے رنگ کے ہیں
سقراط انسان ہے
اس لیے، سقراط ہرے رنگ کا ہے۔

یہاں فکر میں بذاتِ خود مطابقت پائی جاتی ہے۔ لیکن اس فکر میں باہر کی مادی دنیا کی حقیقت سے مطابقت نہیں پائی جاتی۔ انسان کا ہرے رنگ کا ہونا خلافِ واقعہ ہے۔
ان میں پہلی قسم کو” صوری صحت” اور دوسری کو” مادی صحت” موسوم کیا جاتا ہے۔ یہاں پر آکر منطق دو مختلف شاخوں میں بٹ جاتی ہے۔ یعنی منطقِ صوریہ یا منطق استخراجیہ اور دوسرا مادی منطق یا منطق استقرائیہ۔ فلسفیانہ علوم میں اصل استعمال صوری یا استخراجی منطق کا ہے، اس لیے ہماری توجہ زیادہ تر اسی جانب رہے گی۔

 مزمل شیخ بسمل

فیس بک تبصرے

علم منطق – بنیادی اصطلاحات اور شاخیں“ ایک تبصرہ

  1. بھائی منطق کی باقی قسطیں کب اپ لوڈ کریں گے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *