الحاد پر تنقید کا غزالی منہج

10354942_1554322584804368_4877984927265225370_n
امام غزالی (رح) کسی فکر پر تنقید کے دو مناھیج کا ذکرکرتے ہیں (1) خارجی تنقید (2) داخلی تنقید ۔

خارجی تنقید کا مطلب ایک نظرئیے کو کسی دوسرے نظریاتی فریم ورک کے معیارات سے جانچ کر رد کرنا ھوتا ھے۔ مثلا اگر ھم مغربی تصورات کو قرآن و سنت پر پرکھ کر رد کریں تو یہ خارجی نقد کہلاتا ھے۔ داخلی نقد کا مطلب کسی نظرئیے کو خود اسکے اپنے طے کردہ پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ھوتا ھے۔ اس طریقے کے تحت چند طرح سے تنقید کی جاتی ھے: (الف) فریق مخالف کے مفروضات یا دعووں میں تضاد ثابت کرنا، (2) یہ ثابت کرنا کہ انکے طے شدہ مقدمات سے لازما انکے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ھوتے، (3) مفروضات کی لغویت ثابت کرنا وغیرہ۔

چنانچہ امام نے تہافت الفلاسفہ (Incoherence of Philosophers) میں رداعتزال کیلئے داخلی نقد کا منہج بطور خاص ھتھیار استعمال کیا (امام سے پہلے اعتزال کے خلاف اسلامی دنیا میں اس طریقے کو اتنے سسٹمیٹک انداز سے کسی متکلم نے استعمال نہیں کیا)۔ امام اس بات کی بطور خاص تاکید کرتے ہیں کہ الحادی مفروضات کو مذھبی پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ممکن نہیں ھوتا کیونکہ مذھب اور الحاد کے علمی تناظر (مفروضات، مقاصد اور نتائج اخذ کرنے کے طریقہ کار) میں بنیادی نوعیت کا فرق ھوتا ھے، لہذا الحاد کو رد کرنے کا درست طریقہ اسکی داخلی تنقید کرنا ھوتا ھے۔

درحقیقت امام کا طریقہ کار جدید الحاد کیلئے بھی صد فیصد درست ھے کیونکہ اس الحاد کے مفروضات کو بھی قرآن و سنت سے رد کرنا ممکن نہیں ھوتا کیونکہ الہامی نصوص ان ملحدین کے نزدیک نہ صرف یہ کہ سرے سے دلیل ہی نہیں ھوتیں بلکہ ان کے ذریعے الحادی مفروضات و مقدمات کو براہ راست ایڈریس کرنا بھی ممکن نہیں ھوتا (کہ یہ دو مختلف مناہج ہیں)۔ چنانچہ امام یہ خصوصی وضاحت فرماتے ہیں کہ جو لوگ مذھبی نصوص کو الحادی ڈسکورس رد کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف مذھب کا نہایت کمزور مقدمے کی بنا پر دفاع کرتے ہیں بلکہ الٹا اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *