”ایک دن آزاد ھو جاؤں گا” ۔۔۔۔ جدید انسان کی عقلی کم مائیگی

جدید تہذیب آزادی کے فروغ کا دعوی کرتی ھے، مگر فی الحقیقت یہ ایک لغو دعوی ھے۔ آزادی سرمائے کی غلامی کے سواء اور کچھ نہیں۔ جدید تہذیب کی ادارتی صف بندی نے فرد کو آزادی کے ایسے سراب میں مقید کررکھا ھے کہ باوجود اس سے کہ ساری زندگی وہ آزادی کے نام پر سرمائے کے زبردست جبر کا شکار رھتا ھے مگر پھر بھی وہ یہی سمجھتا رھتا ھے کہ میں آزاد ھوں اور یہ سب کچھ اپنی مرضی سے کررھا ھوں۔ اس نظام میں کامیاب زندگی بسر کرنے والی 95 فیصد سے زیادہ اکثریت کی زندگی کا نقشہ بس یہ ھے:

– تین برس کی عمر سے لیکر پچیس تیس سال تک سکول، کالج، یونیورسٹی وغیرہ میں جدید تعلیم حاصل کرتے رھنا
– روزگار کمانے کیلئے کسی کمپنی یا سرکاری ادارے میں ساٹھ ستر سال کی عمر تک نوکری کرنا
– فراغت کے اوقات میں ٹی وی دیکھنا

بتائیے فرد آزاد (جو چاھنا چاھے چاھنے لائق) کب ھوا؟ کیا یہ سکول، کالج، یونیورسٹی اس فرد نے بنائے جن میں اسے جھونکا جا رھا ھے؟ کیا تین سال کے بچے نے یہ خواب دیکھا تھا کہ ایک سکول ھو جس میں میں روز بلک بلک کر جایا کروں اور مجھ پر درجن کتابوں کا بوجھ ڈال دیا جائے؟ کیا روزگار کمانے کا ایسا نظام جس میں کامیابی کیلئے جدید تعلیم حاصل کرنا پڑے اس نے تشکیل دیا؟ کیا سائنسی تعلیم کا نصاب اسکے خوابوں کی تعبیرھے؟ کیا یہ ورک ڈسپلن کا پابند پیداواری نظم اور اپنے ارد گرد پھیلے ھوئے بے شمار سرکاری ادارے جس کا حصہ بنے بغیر وہ روزگار نہیں کما سکتا یہ سب اس کی خواہشات و آرزوں کا نتیجہ ھے؟ کیا مسابقت پر مبنی اجتماعی نظام اسکی تخلیقی صلاحیتوں کا غماز ھے؟ یہ ٹی وی کا ادارہ اسکی تمناؤوں کی تعبیر ھے؟ آخر یہاں ھے ہی کیا جو اسکی مرضی سے ھوا ھے؟ یہ تو سرمائے کی iron cage of rationality کا مقید ھے اور بس، اس قید خانے میں اسکی تمنائیں، خواہشات، جذبات، میلانات نظریات، اعمال الغرض سب کا سب ان اداروں سے متعین ھورھے ھیں۔ تو یہ آزاد کب ھوتا ھے؟

یہ طرفہ تماشا بس یہیں ختم نہیں ھوجاتا بلکہ اس سے بھی مضحکہ خیز بات یہ ھے کہ یہ نظام اسے اس بات پر راضی رکھے ھوئے ھے کہ تم آزاد اسی نظم کے ذریعے ھوسکتے ھو لہذا اسی کا حصہ بنے رھو اور یہ احمق خوشی خوشی اسکا حصہ بنا رھتا ھے اس جھانسے پر کہ ”ایک دن میں آزاد ھوجاؤں گا” مگر وہ دن نہیں آتا، ہاں موت آجاتی ھے۔ آزادی کے نام پر سرمائے کے ایسے زبردست جبر کا شکار جدید انسان اس سب کے باوجود کہتا ھے کہ میں انسانی تاریخ کا عقلمند ترین انسان ھوں۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *