سرمایہ داری کے خلاف اسلام کا مقدمہ

جواز و غلبہ سرمایہ داری کیلئے مغربی مفکرین کے یہاں بالعموم دو نظریات پاۓ جاتے ہیں۔
1) سرمایہ داری فطری اور اسی لئے عقلی نظم ھے (capitalism is natural and hence rational): یہ تعبیر بالعموم انفرادیت پسند لبرل تنویری مفکرین پیش کرتے ہیں۔ انکے نزدیک سرمایہ داری (حصول آزادی و ترقی) انسانی فطرت کا واحد اور جائز اظہار ھے ان معنی میں کہ اگر انسان کو آزاد چھوڑ دیا جاۓ تو وہ اپنی مرضی سے صرف اسی نظم کو اختیا رکرے گا۔ اگر ان مفکرین سے یہ سوال پوچھا جاۓ کہ اگر واقعی یہ فطری نظم ھے تو سترھویں صدی سے قبل یہ نظام کیوں کسی انسانی تہذیب میں نہیں پایا گیا؟ تو اسکے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ”enlightenment تو سترھویں اور اٹھارویں صدی ہی میں آئی نا، یعنی انسان سترھویں اور اٹھارویں صدی ہی میں’ھیومن’ بن کر علم و حقیقت سے آشنا و منور (enlightened) ھوا،اور اس سے ما قبل کا انسان چونکہ نان ھیومن تھا لہذا وحشی تھا اور وحشت و بربریت کی تاریخ معتبر تاریخ نہیں (گویا یہ سوال انکے نزدیک غیر متعلقہ ھے)۔ انکے نزدیک انسانی تہذیب کا سفر جدیدیت و تحریک تنویر سے شروع ھوتا ھے،اسی لئے یہ لوگ عیسائ یورپ کے ادوار کو دورظلمات (dark-ages) قرار دیتے ھیں۔
2) سرمایہ داری تاریخی سفر کا ناگزیر نتیجہ ھے (capitalism is inevitable historical necessity): یہ تعبیر بالعموم اجتماعیت پسند (خصوصا اشتراکی) تنویری مفکرین پیش کرتے ہیں۔ انکے خیال میں سرمایہ داری ایک مسلسل انسانی تاریخ کا لازمی نتیجہ ھے، یعنی انسانی تاریخ مخصوص فطری سماجی قوانین کے تحت آگے بڑھتی ھے، یہ سماجی قوانین بالکل مادی دنیا کے قوانین کی مانند فطری و اٹل ھیں نیز ان سے مفر ممکن نہیں۔ ان سماجی قوانین کا تقاضا ھے کہ انسانی تاریخ کے ایک خاص مقام پر سرمایہ داری قائم ھوجاۓ (کیا انسانی تاریخ اس نظم سے آگے جاۓ گی یا نہیں اس میں یہ مختلف الاقوال ہیں، اکثریت کی راۓ میں یہ ‘تاریخ کا خاتمہ’ End of History ھے)

ان دونوں میں سے جو بھی تعبیر اختیار کرلی جاۓ، دونوں کے نتیجے میں یہ ماننا لازم آتا ھے کہ سرمایہ دارانہ نظم عقل انسانی کا جائز اور ارتقاء پزیر اظہار ھے، چونکہ یہ فطری و عقلی ھے لہذا یہ اخلاقی (moral) اور عادلانہ نظم ھے، چونکہ یہ عقلی اور فطری بنیادوں پر اپنا اخلاقی جواز رکھتا ھے لہذا:
(i) اسے ختم اور تبدیل کرنے کی ھر دعوت اور بات غیر عقلی، غیر فطری، غیر انسانی، غیر مہذبانہ، غیر عادلانہ اور غیر اخلاقی ھے
(ii) اسے بالفعل ختم کرنے کی جدوجہد کرنے اور اس سے نبزدآزما ھونے والا ھر گروہ انسانیت اور تہذیب کا دشمن ھے
(ii) ایسی دعوت دینے اور جدوجہد کرنے والے ھر گروہ کو یا تو (بذریعہ رغبت، جدید تعلیم، سرمایہ دارانہ نظم میں شمولیت کے مواقع، جبر وغیرہ) مہذب بنانے کی ضرورت ھے اور یا پھر سرمایہ داری کی پشتی بان ریاستوں کو انسانی تہذیب کی بقا کی خاطر (In the name of people) ایسے ”انسانیت کش عناصر” کو ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹادینے کا بیڑا اپنے سر اٹھالینا ضروری ھے اور یہ ‘مقدس جہاد’ اس وقت تک جاری رھنا چاھئے جب تک یا تو ایسے عناصر کا وجود ختم ھو جاۓ اوریا پھر یہ مغلوب ھو کر بے دست و پا ھو جائیں تاکہ دنیا جنت (سرمایہ داری) کا گڑھ بن جاۓ جہاں انسانی آزادی (autonomy) کا راج ھو

مگر ھم (مسلمان) سرمایہ داری کی ان دونوں میں سے کسی بھی تعبیر کو درست نہیں مانتے، ہمارے نزدیک سرمایہ داری شر ھے (capitalism is evil) کہ آزادی عبدیت کا رد اور خدا سے بغاوت کا ھم معنی ھے۔ ھم رب کا باغی بن جانے کو نہ تو انسانی فطرت و عقل کا تقاضا مانتے ہیں اور نہ ہی کسی تاریخی جبر کا لازمی نتیجہ۔ سرمایہ داری کا فروغ و غلبہ معاصی (حرص،حسد، غضب، شہوت) کے فروغ، اسکے علمی جواز (سائنس و سوشل سائنس) کی مقبولیت اور انکے حصول کیلئے وضع کی جانے والی ادارتی صف بندی (سول سوسائٹی، جمہوریت وغیرھم) کے جبر کا نتیجہ ھے۔ دوسرے لفظوں میں سرمایہ داری کا غلبہ معصیت کی عمومیت کا نتیجہ ھے۔ ھم انسانی فطرت سے مایوس نہیں کہ انسان کسی بھی لمحے بغاوت اور معصیت سے توبہ کرکے عبدیت کا اقرار کرکے جنت کا مکلف بن سکتا ھے۔ لہذا سرمایہ داری کے خلاف ھر سطح (انفرادیت، معاشرت، ریاست، عسکری) پر نبزدآزما رھنا ہمارے لئے ناگزیر ھے، ھمارے لئے کسی طور اس سے مفر ممکن نہیں (کہ یہ ہماری ‘ذاتی جنت’ کے حصول کا راستہ ھے)۔ سرمایہ داری کے خلاف یہ جہاد اس وقت تک جاری رھے گا جب تک باطل مغلوب نہیں ھوجاتا کہ اس باطل کا غلبہ انسانیت کو حصول جنت کی خواھش کی طرف راغب کرنے اور اسے حاصل کرنے کی سعی کرنے پر راضی کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ھے۔ اس جہاد سے فرار کا راستہ صرف ایک ھے کہ ھم اسلام کے ‘دین’ ھونے کا انکار کردیں اور نتیجتا خود کو اس نظم میں سمو دینے کیلئے راضی ھوجائیں (مسلم ماڈرنزم اسی جدوجہد سے عبارت ھے)۔ جو لوگ سرمایہ داری کے خلاف جہاد کی ناگزیریت کے منکر ھیں وہ اسے بطور ایک نظام زندگی نہیں پہچانتے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *