علم معاشیات کا تصور انفرادیت و عقلیت

علم معاشیات تنویری ڈسکورس سے نکلنے والا وہ شعبہ علم ھے جس کا مقصد سرمایہ دارانہ معاشرتی و ریاستی نظم کا علمی جواز دینا نیز اسے قائم رکھنے کیلئے پالیسی فریم ورک فراھم کرنا ھے۔ یہ کسی آفاقی انسانی رویے یا سچائیوں سے نہیں بلکہ اس مخصوص تصور انفرادیت کے رویے سے بحث کرتی ھے:
– جو خود کو خود مختار اور آزاد ھستی سمجھتی ھے
– یہ آزاد ہستی خود کو ایک ایسی خود غرض انفرادیت سمجھتی ھے جسکی غرض کی تعیین کا پیمانہ خود اسکا نفس ھے، اسکے علاوہ ہر پیمانے (وحی، روایت، خاندان، پیر وغیرہ) کو یہ رد کرتی ھے
– اسکا نفس اسے بتاتا ھے کہ اسکی اصل غرض اپنی لامحدود خواھشات کی تکمیل کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لذت کا حصول ھے

لذت پرستی کے اس انفرادی تعقل اور روحانیت کی بنیاد پر علم معاشیات عقلمند فرد کا رویہ کچھ یوں بیان کرتی ھے کہ اسکی چوائسز دو چیزوں سے متاثر ھوتی ھیں: اولا اسکی خواھشات و میلانات (جو یہ بتاتی ہیں کہ وہ کرنا چاھتا کیا ھے)، دوئم اسکی یہ صلاحیت کہ وہ سرمائے میں اضافے پر مبنی پیداواری عمل میں شرکت کے ذریعے کتنا سرمایہ جمع کرتا ھے (جو یہ بتاتی ھے کہ وہ کرسکتا کیا ھے)۔ ان دونوں (کرنا چاہتا کیا ھے اور کر سکتا کیا ھے) کے ملاپ سے اسکی چوائس (کہ وہ کرتا کیا ھے) متعین ھوتی ھے۔ اس پورے تجزئیے کا مقصد اس جدید ‘عقلمند’ انفرادیت کے اندر یہ ایمان راسخ کرنا ھے کہ اگر تم زیادہ لذت کا حصول چاھتے ھو تو تمہاری زندگی کا مقصد زیادہ سرمایہ جمع کرنا ھونا چاھئے کہ اسی طرح تم زیادہ لذات کی تسکین کے مکلف بنتے ھو۔ حصول سرمایہ ہی آزادی کی عملی تجسیم (concrete form) ھے، آزادی میں اضافہ ناپنے کا اسکے سواء دوسرا کوئی معین پیمانہ موجود نہیں۔ درحقیقت حصول سرمائے کے بغیر آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ سرمایہ دارانہ نظم فروغ لذات کیلئے جو بے شمار اشیاء پیدا کرتا ھے حصول لذت کیلئے فرد کو اسے خریدنا پڑتا ھے جسکے لئے سرمایہ ناگزیر ھے۔ سرمائے میں اضافہ کرنے کی اسی جدوجہد کو علم معاشیات عقلمندی کا پیمانہ قرار دیتی ھے۔

سرمائے میں عمومی اضافے کی اس جدوجہد کو فروغ دینے کیلئے حرص و حسد کی روحانی کیفیات سے مغلوبیت کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، جب تک دماغی عقل حرص و حسد کی قلبی کیفیات سے مغلوب نہیں ھوگی دماغی عقل ترقی (سرمائے میں اضافے) کے طریقوں کی نشاندہی نہیں کرسکے گی۔ لہذا علم معاشیات اس بات کا اقرار کرتی ھے کہ عقلمند صارف حریص (non-satiated/greedy/accumulative) اور حاسد (competitive) ھوتا ھے۔ درحقیقت حرص و حسد کی انہی کیفیات کے عمومی غلبے کو تنویری علمی ڈسکورس میں فطری انسانی کیفیات مانا جاتا ھے اور جو انفرادیت ان کیفیات سے مغلوب نہ ھو یا انکے فطری و عقلی ھونے کا رد کرتی ھو یہ علمیت اسے جاہل، غیر عقلی و بدعقیدہ قرار دیتی ھے۔ انہی معنی میں سرمایہ حرص و حسد کی عملی تجسیم ھے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *