فلسفہ کی شاخیں

10697388_1532845690285391_7009579467931193630_o

فلسفہ کی شاخیں
روایتی فلسفہ میں جو اہم شاخیں ہیں ان کی تعداد پانچ ہے جو کہ اس طرح ہیں:
۱۔ مابعد الطبیعات یا ماورائے طبیعات::: دنیا بلکہ کائنات سے ماورا موجودات سے متعلق شاخ۔ الٰہیات اور وجودیات اسی شاخ کا موضوع ہے۔
۲۔ علمیات::: یہ شاخ علم، اس کے ماخذات، ابدی سچ، جھوٹ، حقیقت کو جاننے کے ماخذات کے معتبر اور غیر معتبرہونے پر بحث کرتی ہے۔
۳۔ منطق::: بحث اور فکری سہو سے بچنے کے اصول یعنی کس طرح کوئی عقلی دلیل قائم کی جائے، اور عقلی موشگافیوں میں غلطیوں سے باز رہا جائے، یہ اس شاخ کا موضوع ہے۔
۴۔ اخلاقیات::: اچھائی، برائی، شیطانی اور رحمانی طور طریقے اور زندگی گزارنے کے لیے بہترین اصول وغیرہ پر بحث اس شاخ کا موضوع ہے۔
۵۔ جمالیات::: حسن و جمال، ذوق، لطف اور ان سے متعلق حواس اور تخیلات اس شاخ کا موضوع ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر کئی شاخیں ہیں جو بعد میں فلسفہ کا موضوع بنی ہیں۔ جیسے:-
لسانیات: یعنی زبان کا فلسفہ، انسان نے کب، کیسے اور کیوں بولنا شروع کیا؟ انسان کو بولنے پر برانگیختہ کرنے والے عناصر کیا تھے؟ کیا جذبات کی موجودگی الفاظ کے بغیر ممکن ہے؟ اور اس طرح کے دوسرے سوالات اس شاخ کا موضوع ہیں۔
قانون و فقہ: یعنی کوئی بھی قانون کن بنیادوں پر بننا چاہیے؟ کس کس پر کوئی قانون کس طرح لاگو ہوگا؟ برے اور بھلے، مجرم اور معصوم قرار دینے کے اصول وغیرہ کی بحثیں اس شاخ کا موضوع ہیں۔
اسی طرح ریاضی، سائنس کے اصول اور مذہبیات وغیرہ۔ البتہ یہاں ہماری توجہ مسبوق الذکر فلسفہ کی اہم شاخوں کی جانب ہی رہے گی۔ اور اس میں مابعد الطبیعات اور منطق اہم ترین ہیں۔ چند موضوعات اسلامی عقائد و مسائل کے حوالے سے علمیات اور اخلاقیات سے بھی زیرِ بحث آیا کریں گے۔ یہاں میں نے پانچ شاخوں کا ذکر کرکے ان کے حوالے سے ایک دو سطروں میں ان کے موضوعات کی وضاحت کردی ہے۔ ان میں جن شاخوں کو باقاعدہ موضوع بنایا جائے گا ان کی اپنے وقت کی مناسبت سے تعریف اور مزید تفصیل بھی دی جائے گی ان شاء اللہ تعالی۔
طالبِ دعا
مزمل شیخ۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *