دوسری شادی اور عدل

2

عورتوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے والے جدید مفکرین کہتے ہیں کہ مشاھدے کے مطابق دوسری شادی کے بعد مرد عموما عدل نہیں کرتے لہذا دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے قانونی اجازت لینا ضروری ھونا چاھئے تاکہ عورت ظلم کا شکار نہ ھو۔
اگر یہی منطق ٹھری تو پھر دوسری شادی ہی کیا، مردوں کی ایک اچھی خاصی تعداد تو پہلی بیوی ہی کے حقوق پورے نہیں کررہی، اتنا ہی نہیں بلکہ ان پر ظلم بھی کرتی ھے۔ لہذا عورتوں کے حقوق کو محفوظ کرنے کیلئے پہلی شادی کیلئے یہ قانون بنانے کی سخت ضرورت ھے کہ مرد پہلی شادی کیلئے عدالت یا کسی سرکاری میریج ادارے سے اجازت لینے کا قانونا پابند ھو، جہاں قرآئن کی روشنی میں وہ یہ ثابت کرے کہ جس عورت کو وہ بیوی بنانے جارھا ھے اسکے ساتھ وہ عدل کرسکتا نیز اسکی تمام شرعی ذمہ داریاں ادا کرسکتا ھے۔ جس کسی کے پاس یہ ”عدل سرٹیفیکیٹ” نہ ھو قاضی اسکا نکاح ہی نہ پڑھا سکتا ھو۔ اس مجوزہ قانون کے نتیجے میں ظلم سے بچنے والی خواتین کی تعداد یقینا اس موجودہ قانون (کہ دوسری کیلئے پہلی سے اجازت لینا لازم ھے) سے بچنے والی خواتین سے بہت زیادہ ھوگی کیونکہ دوسری شادی تو بہت کم مرد کرتے ہیں جبکہ پہلی شادی تقریبا سب ہی کرتے ہیں، لہذا زیادہ ضرورت اس پر نظر رکھنے کی ھے۔
اور اس لڑکے کی ماں بچاری کا کیا قصور ھے جس نے پال پوس کر اسے بڑا کیا ھے؟ اکثر دیکھا گیا ھے کہ شادی کے بعد لڑکے ماں کے ساتھ عدل نہیں کرتے، لہذا عورتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے لازم ھے کہ لڑکے کی طرف سے لڑکے کی ماں کو حق طلاق دے دیا جائے کہ یہاں بیٹے نے اپنی بیوی کی وجہ سے اپنی ماں پر ظلم کیا وھاں ماں نے مسئلے کی جڑ (بیوی) کو گھر بھیج دیا۔ بھلا اس حق طلاق کو منتقل کئے بغیر بھی ماں (عورت) کے حقوق کوتحفظ دیا جاسکتا ھے؟ ھرگز نہیں، تو فورا یہ قانون بنادیا جانا چاہئے، بلکہ نکاح نامے میں اسے بطور ایک شق داخل کردینا چاھئے کہ جوں نکاح ھو یہ حق بھی ماں کو منتقل ھوجائے تاکہ معاشرے میں عورتوں کی ایک بہت بڑی تعداد (ماں) کے حقوق محفوظ ھوسکیں۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *