یونانی فلسفے کی یلغار کا مقابلہ چار مختلف انداز میں

10462630_1485709698332324_4951586938292497008_n
یونانی فلسفے کی یلغار کا مقابلہ اسلامی تاریخ میں چار مختلف انداز میں کیا گیا۔
1. پہلا گروہ ان لوگوں کا تھا جو یونانی فلسفہ و منطق سے حد درجہ متاثر ھوا اور اسلام میں قطع و برید یونانی فلسفے کے مطابق شروع کر دی یہ گروہ معتزلہ کے نام سے پہچانا گیا ،اس گروہ نے اسلام کی بقا اسی میں سمجھی کہ اسے یونانی فلسفے ہم آہنگ کیا جائے ۔۔۔یعنی معتزلہ کا انداز سر تسلیم خم تھا ۔
2. دوسرا گروہ متکلمین کا تھا ،جنہوں نے یونانی فلسفے کو عقلیت ہی کی بنیاد پر رد کا عمل شروع کیا اور یونانی فلسفے کے پیدا کردہ اعتراضات انہی کے اصولوں کی روشنی میں دیا ۔۔یہی وجہ ھے کہ ہماری کتب عقائد میں فلسفہ یوں شامل ہے کہ عقیدہ و فلسفہ میں فرق نہیں رہا کہ کس موضوع کی کتاب ھے ۔یعنی متکلمین کا انداز دفاعی تھا ۔کہ فلسفہ کی روشنی میں اسلامی عقائد کا دفاع ۔
3. تیسرا گروہ صوفیا جن کے سرخیل مولانا رومی تھے اور محدثین جنہوں نے عقلیت کی ساری عمارت پر ہی تیشہ چلایا خواہ فلسفہ ہو یا کوئی اور عقلی علم،اور محض نصوص کو بنیاد ٹھرایا ۔خاص طور پرمولانارومی نے عقلیت کے بے بنیاد ہونے پر جو دلنشین گفتگو مثنوی میں کی ہے وہ ایک شاہکار ہے ۔اس گروہ کا انداز نظر اندازی تھا کہ عقلی علوم کے معتبر و غیر معتبر پر بحث کی بجائے نصوص و نقل کو اجاگر کیا جائے ۔
4. چوتھا گروہ امام غزالی جیسے لوگ تھے جنہوں نے فلسفہ کی بنیادوں پر فلسفہ کے اصولوں کے مطابق حملہ کیا اور فلسفہ کی بے چارگی ،ناموز ونیت،تضاد،اصول فلسفہ کی عدم مانعیت و جامعیت ،فلاسفہ کی متضاد آراء ،فلاسفہ کے عقل و فہم سے تہی دامنی ،معروف فلسفیوں کی واضح غلطیاں اور اسرار کائنات سے ناواقفیت پر پرزور انداز میں گفتگو کی ، انکی تہافۃ الفلاسفہ اس موضوع پر ایک شاہکار کتا ب ہے ۔امام غزالی کا انداز اقدامی تھا ۔۔
سمیع اللہ جان

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *