گناہگار مسلم جنت میں اور دیانت دار غیر مسلم جہنم میں کیوں ؟!!

سوال : فاسق فاجر مسلمان جنت میں اور دیانت دار غیر مسلم، دہریہ جہنم میں کیوں؟
الله پر ایمان لانا ضروری ہے یا نیک کام کرنا؟

اس سول پر کئی تناظرات سے گفتگو کرنا ممکن ہے۔
1. ایک سادہ جواب یہ ہے کہ نیک اعمال کا اجر اسے ملے گا جو اجر ملنے کی امید سے کام کررہا ہے، جسے اجر ملنے کی امید ہی نہیں یا وہ اسے حاصل کرنے کی آرزو ہی نہیں رکھتا تو اگر اسے اجر نہ دیا جائے تو پھر اسے شکایت بھی نہیں کرنی چاہئے۔ پس عمل پر اجر یا جنت اسے ملے گی جو اپنے رب کی طرف سے حصول ثواب کی نیت اور امید رکھتا ہے، جسے اس اجر کی پرواہ ہی نہیں یا یقین ہی نہیں اسے شکایت بھی نہیں کرنی چاہئے۔ یہ اس سوال کا قدرے سادہ جواب ہے، البتہ اسکا تفصیلی اور اصولی جواب سمجھنے کیلئے پہلے یہ بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہب کا خیر و شر کے متعلق نظریہ کیا ہے۔

2. ‘اچھا کام’ کوئی پروسیجرل تصور نہیں بلکہ اچھا کام وہ ہوتا ہے جسکا حکم اللہ نے دیا ہے اور وہ اس نیت ہی سے کیا جائے کہ اسکا حکم خدا نے دیا ہے نیز اللہ اس سے راضی ہوتا ہے۔ مثلا اگر کوئی یہ سمجھ کر سچ بول رہا ہے کہ یہ مارکیٹنگ کا اصول ہے، یا اس سے نفع زیادہ ہوتا ہے، یا اس میں میری قوم کا بھلا ہے، یا یہ بس میرے ضمیر کی آواز ہے، یا ایسا کرنا مجھے اچھا لگتا ہے، یا اس سے لوگوں میں میری نیک نامی ہوگی وغیرہ تو یہ عمل ہرگز بھی اچھا نہیں یا اجر کا مستحق نہیں۔ عمل کی ادائیگی کرتے وقت جسکی نیت ہی حصول رضا ئے الہی نہیں، مذہبی نکتہ نگاہ سے وہ عمل اچھا ہے ہی کب کہ اسکا اجر دیا جانا چاہئے؟ قرآن نے یہ بات دوٹوک انداز میں بیان کی ہے کہ جو لوگ آخرت کی آرزو نہیں رکھتے انہیں انکے اعمال کا اجر، جو کچھ بھی ہے، اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے اور آخرت میں انکے لئے خسارہ ہے

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *