اسلام جیسے دین کی موجودگی میں سیکولرازم کی ضرورت کیوں ؟

10511093_1490308167872477_8382081333692970141_n

سیکولر حضرات اسلام کی مخالفت اور سیکولرازم ی حمایت میں منطق اور عقل دونوں کو پامال کرتے ہیں ، عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ ” سیکولرازم مذہب مخالف نہیں، وہ صرف ریاستی امور سے مذہب کو دور رکھنا چاہتا ہے”۔بظاہر یہ بیان ان لوگوں کو اپیل کرتا دکھائی دیتا ہے، جو نہ مذہب کو اچھی طرح جانتے ہیں اور نہ سیکولرازم کو ، حقیقت میں یہ محض مکرو فریب کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ :
1- اگر ایک مذہب اجتماعی امور سے لاتعلق نہ ہو اور انسانوں کے لیے اپنے اندر ہدایت رکھتا ہے تو کیا آپ پھر بھی اسے اجتماعی امور سے دور رکھیں گے ؟ اور اگر رکھیں گے تو کیوں ؟
2- اسی طرح یہ کہنا کہ ہم مذہب کے مخالف نہیں بلکہ اسے ریاستی امور سے دور کھنا چاہتے ہیں ‘ کا مطلب یہ ہوا کہ مذہب ریاستی امور کی تنظیم و انصرام اور اصلاح کرنا چاہتا ہے مگر آپ اسے روکنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسی صورت ہے تو آپ کیوں روکنا چاہتے ہیں ؟
3- کیا اس لیے کہ آپ کی نظر میں یہ فرسودہ ہے ؟
4- کیا موجودہ دور میں یہ قابل اطلاق نہیں؟
5- کیا اس میں ایسا طریقہ اصلاح اور تبدیلی نہیں جو نئے مسائل سے نبٹ سکے ؟
6- کیا تعبیر ، اطلاق ، تمدنی تقاضوں اور علم کے نئے آفاق کی جستجو میں یہ عقل کے خلاف ہے؟
7- کیا اس میں ریاستی اور اجتماعی امور زندگی کے لیے ہدایت موجود نہیں ہے؟
اگر اسلام ان تمام شرائط پر پورا اترتا ہےا ور مسلمانوں کی انکے تمام معاملات میں صحیح معنوں میں راہنمائی کرتا اور سہولت دیتا ہے تو مسلمان اپنے دنیاوی معاملات سے اسے لاتعلق کیوں رکھیں ؟

تحریر پر ایک اعتراض

مزہب کے اکثر مقدمات کا تعلق دلیل کی بجائے عقیدے سے ہوتا ہے۔ مثلا میرا ماننا ہے کہ میرا مذہب سب سے بہتر مذہب ہے بلکہ مزید یہ کہ میرا مسلک سب سے بہترین مسلک ہے۔ آج تک انسان منطقی طور پر ثابت نہیں کر پایا کہ کو ن سا مزہب و مسلک سب سے بہترین ہے۔ ایسی صورت میں مزہب ایک اعتقادی معاملہ ہے خالصتا عقلی نہیں۔ اب ایک ملک میں رہنے والے بغیر مذہب و مسلک کے ایک جیسے شہری ہیں۔ ایسی صورت میں ایک گروہ کا مسلک و مذہب دوسرے پر کیوں لاگو کیا جائے (جبکہ منطقی طور پر اسے ثابت نہیں کر سکتے)۔ اب اگر خصوصا اسلام کی بات کی جائے جس کی بنیاد پر یہ پوسٹ لگائی گئی تو ایسی صورت میں اگر اسے ریاستی مذہب کے طور پر نافذ کیا جائے تو بہت سے شہری حقوق غصب ہوں گے۔ جیسے ہر غیر مسلم کو جزیہ دینا پڑے گا جبکہ مسلمان زکاۃ دیں گے جس کی شرح جزیہ کی نسبت کافی کم ہے۔ دوئم مسلمان تو اس ملک میں اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکیں گے جب کہ غیز مسلم کو کھلے عام تبلیغ کا حق حاصل نہیں ہو گا۔ سوئم ایک مسلم مرد تو غیر مسلم لڑکی سے شادی کر پائے گا مگر ایک غیر مسلم مرد مسلم لڑکی سے شادی نہیں کر پائے گا۔ چہارم ایک غیرمسلم اگر اسلام قبول کرے گا تو اس کی تعظیم کی جائے گی جب کہ ایک مسلم اگر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرے گا تو اسے مرتد کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اسی طرح اگر مسلم پیغمبر کے خلاف بات کرنے پر تو موت کی سزا ہو گی جب کہ کسی دوسرے مذہب (مثلا قادیانی) کے نبی کو جھوٹا کہا اور لکھا جائے گا۔ اسی طرح مختلف معاملات میں جو قوانین رائج ہوں گے وہ مسلم قوانین ہوں گے غیر مسلم نہیں۔ اصل میں مذہب کے نام پر ریاستی امور چلانے کا سیدھا مطلب یہ کہنا ہے کہ مذکورہ بالا مذہب تو درست ہے باقی مذاہب غلط۔ (جب کہ غلط و صحیح کے تعین کے لئے کوئی عقلی کسوٹی نہیں ) مذہب اعتقادی یقین ہے۔ ایسے میں ہم کیوںکر کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا مذہب درست ہے اور ہم وہ سب پر لاگو کریں گے۔ یہ تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات ہو گی۔ محض طاقت کی بنا پر استحصال ہو گا۔ برائے مہربانی غضب ناک ہوئے بنا میرے اوپر پیش کئے گئے سوالات کے جواب دیئے جائے۔ سلام

جواب

آپ نے کہا کہ کسی دوسرے مذہب کے نبی کو جھوٹا کہا اور لکھا جائے گا، پہلی بات یہ اسلامی اصول و قوانین کے خلاف ہے جیسا کہ حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوسرے کے خدا کو برا مت کہو وہ تمہارے خدا کو برا کہے گا ۔ یعنی مسلمانوں کو دوسروں کے خدا کو برا کہنے سے منع فرما دیا، رہی بات قادیانیوں کی تو وہ لوگ خود کو ایک الگ مذہب نہیں مانتے، لہذا آپ کی یہ اینالوجی غلط ہے ۔

دوسرا مسلمانوں کے قوانین غیر مسلموں پر لاگو نہیں ہوتے، اگر آپ نے یہ سوچ کر پوسٹ کی ہے تو غلط کی ہے ۔ غیر مسلموں کے معاملات انکے مذہب کے مطابق حل کرنے کی اجازت ہے۔

باقی آپ نے صحیح فرمایا کہ مذہب کے مطابق ریاستی امور چلانے کا یہ ہی مطلب ہے کہ ہمارا مذہب ٹھیک ہے اور باقی غلط ہیں، اور اسکا تعلق بھی جیسا کہ آپنے فرمایا کہ اعتقادی ہے باقی عقل کی کسوٹیاں تو بہت سی ہیں اور ہر مذہب کے مطابق اسکی زیادہ مضبوط ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپکو اس بات کا یقین ہی نہیں کہ آپکا مذہب ہی سچا ہے اور باقی سچے نہیں ہیں تو اعتقاد کہاں رہا ؟

باقی یہ اعتراض کہ اگر مسلمانوں کو انکے مذہب کے مطابق ریاستی امور چلانے کی اجازت دی جائے تو باقیوں کا استحصال ہو گا ۔ اول تو اس بات کو غلط ثابت کرنے پر اسلامی تعلیمات سے بہت سی باتیں نکال کر دی جا سکتی ہیں جہاں اسلام غیر مسلموں کا تحفظ کرتا ہے ۔ لیکن اگر آپ کی بات کو بالفرض سچ مان لیا جائے کہ اگر مسلم اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کو انکے مذہب کے مطابق قوانین بنانے کی اجازت دی جائے تو باقیوں کا استحصال ہو گا تو آپ جمہوریت کو کونسے گڑھے میں پھینکیں گے ؟؟ وہاں بھی تو جمہوریت کو اپنی مرضی کے بادشاہ اور وزیر بنانے کی اجازت ہوتی ہے اور پھر اپنی مرضی کے لوگوں کو قانون بنانے والے بنانے کی اجازت ہوتی ہے جو اس اکثریت کی مرضی کے مطابق قانون بنا کر باقی اقلیت کا استحصال کرتے ہیں ۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *